حدیث نمبر: 6770
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن زِبْرِيق (1)، حدثنا أصبَغ بن عبد العزيز، حدثني أبي عبد العزيز بن أصبَغ بن أبان بن سليمان، عن جدِّه أبان، عن أبيه سليمان قال: كان إسلامُ قَبَاث بن أَشيَم أنَّ رجالًا من قومِه وغيرَهم من العرب أتَوْه، فقالوا: إنَّ محمدَ بن عبد الله بن عبد المطلب قد خرَجَ يدعو إلى دينٍ غير دينِنا، فقام قَباثٌ حتى أتى رسولَ الله ﷺ فلمَّا دخل عليه قال له: "اجلِسْ يا قَباثُ" فأوجَمَ قَباثٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أنت القائل: لو خرجَتْ نساءُ قريش ردَّتْ محمدًا وأصحابَه؟ " قال: قَباثُ: والذي بعثك بالحقِّ، ما تحدَّثَ به لساني، ولا تَزمزمَتْ به شفتاي، ولا سَمِعَه منِّي أحدٌ، وما هو إلَّا شيءٌ هَجَسَ في نفسي، أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، وأشهدُ أنَّك عبدُه ورسولُه، وأنَّ ما جئتَ به الحقُّ (1).
حافظ طلحہ بابر

سلیمان اپنے والد ابان سے اور وہ اپنے والد سلیمان سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا قصہ یہ ہے کہ ان کی قوم اور دیگر عربوں کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے نکل کر ایک ایسے دین کی دعوت دی ہے جو ہمارے دین سے الگ ہے“، چنانچہ قباث کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب وہ آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے قباث! بیٹھ جاؤ“، قباث حیرت زدہ ہو کر چپ ہو گئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم وہی ہو جس نے کہا تھا کہ اگر قریش کی عورتیں نکل پڑیں تو وہ محمد اور ان کے ساتھیوں کو (مکے سے) نکال دیں گی؟“ قباث نے کہا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! یہ بات نہ تو میری زبان پر آئی، نہ میرے ہونٹوں نے اس کی بھنبھناہٹ کی اور نہ ہی کسی نے یہ بات مجھ سے سنی، یہ تو محض ایک خیال تھا جو میرے دل میں پیدا ہوا تھا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اس کے بندے اور رسول ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں وہ برحق ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6770
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل
تخریج حدیث «إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل، عمرو بن إسحاق بن زبريق لم نقف له على ترجمة لكن روى عنه ثلاثة، منهم الطبراني وقد أكثر عنه الرواية في كتبه، وأصبغ بن عبد العزيز بن أصبغ كذا سماه الحاكم، وسماه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 321: عبد العزيز بن مروان بن أبان ...» [ترقيم الرساله 6770] [ترقيم الشركة 6690]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: رزيق.
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں تحریف ہو کر "رزيق" لکھا گیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف مسلسل بالمجاهيل، عمرو بن إسحاق بن زبريق لم نقف له على ترجمة لكن روى عنه ثلاثة، منهم الطبراني وقد أكثر عنه الرواية في كتبه، وأصبغ بن عبد العزيز بن أصبغ كذا سماه الحاكم، وسماه ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 2/ 321: عبد العزيز بن مروان بن أبان بن سليمان بن مالك الليثي، وقال: سألت أبي عنه، فقال: هو مجهول. قلنا: ولم نعرف أباه ولا جده أيضًا، وقال الهيثمي في "المجمع" 8/ 287 بعد أن عزاه للطبراني: وفيه من لم أعرفهم.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے اور اس میں پے در پے مجہول راوی موجود ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو بن اسحاق بن زبریق کے حالات نہیں مل سکے (اگرچہ طبرانی نے ان سے کثرت سے روایت کی ہے)۔ اصبغ بن عبد العزیز کو امام ابن ابی حاتم نے "مجہول" قرار دیا ہے، نیز ان کے والد اور دادا کے حالات بھی نا معلوم ہیں۔ علامہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (8/ 287) میں صراحت کی ہے کہ اس سند میں ایسے راوی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" 19/ (72)، وفي "الأوسط" (4909) -ومن طريقه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5789)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 49/ 232 - 233 - وابن عساكر أيضًا من طريق محمد بن عمرو بن إسحاق، كلاهما عن عمرو بن إسحاق، بهذا الإسناد. وقال الطبراني: لا يروى هذا الحديث عن قباث بن أشيم إلا بهذا الإسناد، تفرد به أصبغ بن عبد العزيز الحمصي.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" اور "المعجم الاوسط" میں روایت کیا ہے، اور ان کے واسطے سے ابو نعیم اور ابن عساکر نے نقل کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام طبرانی فرماتے ہیں کہ قباث بن اشیم رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے اور اصبغ بن عبد العزیز الحمصی اس کی روایت میں منفرد ہیں۔
وأخرج نحوه ابن عساكر 49/ 232 من طريق سهل بن عمار، عن عمر بن عبد الله بن رزين، عن سفيان بن حسين، عن خالد بن دريك، عن قباث. وسهل متهم بالكذب، فلا يفرح به.
درجۂ حدیث: یہ روایت نا قابلِ اعتبار ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں سہل بن عمار "متہم بالکذب" (جھوٹ کا ملزم) ہے، اس لیے یہ تائید کے لیے بھی موزوں نہیں ہے۔
قوله: "ولا تزمزمت به شفتاي" الزمزمة: صوت خفيّ لا يكاد يُفهم. قاله ابن الأثير في "النهاية في غريب الحديث" 2/ 313.
نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "ولا تزمزمت بہ شفتاي" (اور نہ میرے ہونٹوں میں کوئی جنبش ہوئی) میں "زمزمہ" سے مراد ایسی دھیمی آواز ہے جسے سمجھنا مشکل ہو۔ ابن الاثیر نے "النھایہ" (2/ 313) میں یہی وضاحت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6770 سے ماخوذ ہے۔