حدیث نمبر: 6665
أخبرني عَبْدانُ بن يزيد الدَّقِيقي بهَمَذان، حدثنا محمد بن المغيرة، حدثنا يحيى بن نَصْر بن حاجِبٍ، حدثنا عبد الله بن شُبرُمَة، عن الشَّعْبِي، عن حُذيفة ابن أَسِيد قال: كان النبي ﷺ يُقرِّب كَبشَينِ أملَحَين، فيذبَحُ أحدَهما فيقول: "اللهمَّ هذا عن محمّدٍ وآل محمّدٍ"، ويُقرِّبُ الآخرَ فيقول: "اللهم هذا عن أُمَّتِي، مَن شَهِدَ لك بالتوحيدِ ولي بالبَلَاغ" (1). ذكرُ عتَّاب بن أَسِيد الأُمَوي (2) ﵁-
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دو چتکبرے (سفید و سیاہ) مینڈھے قریب لاتے، ایک کو ذبح کرتے ہوئے فرماتے: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ» ”اے اللہ! یہ محمد اور آلِ محمد (ﷺ) کی طرف سے ہے“، اور دوسرے کو قریب لاتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي، مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَلِي بِالْبَلَاغِ» ”اے اللہ! یہ میری اس امت کی طرف سے ہے جس نے تیری توحید اور میرے (پیغام) پہنچا دینے کی گواہی دی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6665
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل يحيى بن نصر بن حاجب. وأخرجه الطبراني (3059) من طريق محمد بن عاصم الرازي، عن يحيى بن نصر، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 6665] [ترقيم الشركة 6585]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل يحيى بن نصر بن حاجب. وأخرجه الطبراني (3059) من طريق محمد بن عاصم الرازي، عن يحيى بن نصر، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند یحییٰ بن نصر بن حاجب کی وجہ سے متابعات میں "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (3059) نے محمد بن عاصم الرازی عن یحییٰ بن نصر کی سند سے اسی طریق سے روایت کیا ہے۔
وجاء في الباب ما يشهد له عدة أحاديث، انظر حديث جابر السالف عند المصنف برقم (1734)، وبقية شواهده هناك.
متابعات و شواہد: اس باب میں کئی شاہد احادیث مروی ہیں؛ اس حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ملاحظہ کریں جو مصنف کے ہاں پہلے نمبر (1734) پر گزر چکی ہے، اور بقیہ شواہد بھی وہیں درج ہیں۔
(2) وقع في النسخ الخطية مكان "الأموي": الغفاري، وهو خطأٌ يقينًا، والتصويب من "تلخيص الذهبي" ومن نسبه الآتي.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں لفظ "الأموي" کی جگہ "الغفاري" لکھا گیا ہے، جو کہ یقیناً غلطی ہے؛ اس کی درستگی امام ذہبی کی "تلخیص" اور آگے آنے والے نسب کے بیان سے کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6665 سے ماخوذ ہے۔