المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِخْلَافُ النَّبِيِّ أَبَا رُهْمٍ عَلَى الْمَدِينَةِ باب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا ابو رہم رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا قائم مقام مقرر کرنا
حدیث نمبر: 6662
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، حدثني ابنُ أخي أبي رُهم، أنه سمع أبا رُهُم كُلثومَ بن حُصين -من أصحاب رسول الله ﷺ الذين بايعوا تحتَ الشَّجرة- قال: غزوتُ مع رسول الله ﷺ غزوةَ تَبُوكَ، فسِرتُ ذاتَ ليلةٍ معه ونحن بقُرْبِ رسول الله ﷺ وأُلقِيَ عليه النُّعاسُ، وجعلتُ أَستيقِظُ وقد دَنَتْ راحِلَتي من راحلةِ رسول الله ﷺ فَطَفِقتُ أَجْرُرُ (1) راحلتي عنه حتى غَلَبَتْني عَيْني في بعض الطريق ونحنُ في بعض الليل، فقال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أعَزَّ أهلي عليَّ أن يتخلَّفَ عنِّي المهاجرون من قُريشٍ والأنصارُ وأَسلَمُ وغِفارٌ" (2). ذكرُ حُذَيفة بن أَسِيد الغِفاري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6518 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابورہم کے بھتیجے سے مروی ہے، انہوں نے ابورہم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ (جو شجرہ کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ میں سے ہیں) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی، ایک رات میں آپ ﷺ کے قریب ہی چل رہا تھا کہ آپ ﷺ پر نیند کا غلبہ ہوا، میری سواری آپ ﷺ کی اونٹنی کے بہت قریب ہو گئی تو میں اپنی سواری کو آپ ﷺ سے دور ہٹانے لگا یہاں تک کہ رات کے کسی پہر میری آنکھ لگ گئی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے نزدیک میرے اہل میں سب سے زیادہ معزز وہ ہیں جو مجھ سے پیچھے نہیں رہتے یعنی قریش کے مہاجرین، انصار اور قبائل اسلم و غفار۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا في النسخ الخطية، وفي "تلخيص الذهبي": أزجر.
نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں یہ لفظ "أزجر" درج ہے۔
(2) إسناده فيه ضعف لابهام ابن أخي أبي رهم وجهالته، فقد انفرد بالرواية عنه الزهري.
درجۂ حدیث: اس کی سند میں ضعف ہے؛ کیونکہ ابو رُہم کا بھتیجا "مبہم" اور "مجہول" ہے، اور ان سے روایت کرنے میں امام زہری منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 31 / (19072)، وابن حبان (7257) من طريق عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 31 / (19072) اور ابن حبان (7257) نے عبد الرزاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ امام ذہبی کی "تلخیص" میں یہ لفظ "أزجر" درج ہے۔
(2) إسناده فيه ضعف لابهام ابن أخي أبي رهم وجهالته، فقد انفرد بالرواية عنه الزهري.
درجۂ حدیث: اس کی سند میں ضعف ہے؛ کیونکہ ابو رُہم کا بھتیجا "مبہم" اور "مجہول" ہے، اور ان سے روایت کرنے میں امام زہری منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 31 / (19072)، وابن حبان (7257) من طريق عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 31 / (19072) اور ابن حبان (7257) نے عبد الرزاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6662 سے ماخوذ ہے۔