المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6663
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله الزُّبَيري قال: حُذَيفةُ بن أَسِيد بن الأَعْوَص (3) ابن واقعةَ بن حَرَام بن غِفَار، وقيل: ابن أَسِيد بن خالد بن الأغوَص، يُكنَى أبا سَرِيحةَ، تحوَّل من المدينة إلى الكوفة وبها مات.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ: حذیفہ بن اسید بن اعوص بن واقعہ بن حرام بن غفار (اور ایک قول کے مطابق ابن اسید بن خالد بن اغوص)، ان کی کنیت ابو سریحہ تھی، وہ مدینہ سے کوفہ منتقل ہو گئے تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) هكذا في النسخ الخطية في الموضعين، والذي في مصادر ترجمته: الأَغوس، بالسين، ويقال أيضًا: الأَغوز، بالزاي.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں دونوں جگہ اسی طرح ہے، مگر تراجم کی کتب میں درست نام "الأَغوس" (سین کے ساتھ) ہے، اور اسے "الأَغوز" (زاء کے ساتھ) بھی کہا جاتا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں دونوں جگہ اسی طرح ہے، مگر تراجم کی کتب میں درست نام "الأَغوس" (سین کے ساتھ) ہے، اور اسے "الأَغوز" (زاء کے ساتھ) بھی کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6663 سے ماخوذ ہے۔