المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا باب: سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضة رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6655
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمةُ العَدْلُ، حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن حُمَيد بن هلال، عن عبد الله ابن الصامت قال: قال أبو ذرٍّ: أتينا قومنا غِفارًا، فأسلَمَ بعضُهم قبل أن يَقدَمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ، وكان يؤُمُّهم إيماءُ بن رَحَضَة، وكان سيّدَهم (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6512 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم اپنی قوم بنو غفار کے پاس آئے، تو ان میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے، اور سیدنا ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ ان کی امامت کرواتے تھے اور وہی ان کے سردار تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 35 / (21525)، ومسلم (2473)، وابن حبان (7133) من طرق عن سليمان ابن المغيرة، بهذا الإسناد -ضمن حديث إسلام أبي ذر الطويل. ووقع في رواية يزيد بن هارون عن سليمان عند أحمد: أنَّ الذي كان يؤمّ غفارًا هو خفاف لا أبوه، وهي رواية شاذَّة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 35 / (21525)، مسلم (2473) اور ابن حبان (7133) نے سلیمان بن مغیرہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (یہ حضرت ابو ذر کے اسلام لانے کے طویل قصے کا حصہ ہے)۔
فنی نکتہ / علّت: امام احمد کے ہاں یزید بن ہارون عن سلیمان کی روایت میں یہ ذکر ہے کہ قبیلہ غفار کی امامت خفاف کر رہے تھے نہ کہ ان کے والد، مگر یہ روایت "شاذ" ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 35 / (21525)، ومسلم (2473)، وابن حبان (7133) من طرق عن سليمان ابن المغيرة، بهذا الإسناد -ضمن حديث إسلام أبي ذر الطويل. ووقع في رواية يزيد بن هارون عن سليمان عند أحمد: أنَّ الذي كان يؤمّ غفارًا هو خفاف لا أبوه، وهي رواية شاذَّة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 35 / (21525)، مسلم (2473) اور ابن حبان (7133) نے سلیمان بن مغیرہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (یہ حضرت ابو ذر کے اسلام لانے کے طویل قصے کا حصہ ہے)۔
فنی نکتہ / علّت: امام احمد کے ہاں یزید بن ہارون عن سلیمان کی روایت میں یہ ذکر ہے کہ قبیلہ غفار کی امامت خفاف کر رہے تھے نہ کہ ان کے والد، مگر یہ روایت "شاذ" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6655 سے ماخوذ ہے۔