المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا باب: سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضة رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6654
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خَليفة، حدثنا محمد بن سلّام الجُمَحي، حدثنا مَعمَر بن المثنَّى، قال: خُفَافُ بن إيماءَ بن رَحَضَة بن خُرْبةَ بن خُفَاف ابن حارثة بن غِفَارٍ، من كُبرائِهم (2)، وقد أسلَمَ أبوه إيماءُ بن رَحَضَة وكان من ساداتِ قومه، وقد شَهِدَ خُفَاف بن إيماءَ الحُديبيَةَ مع رسول الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر
معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں کہ: خفاف بن ایماء بن رحضہ بن خربہ بن خفاف بن حارثہ بن غفار، اپنی قوم کے عمائدین میں سے تھے، ان کے والد ایماء بن رحضہ اسلام لائے اور وہ اپنی قوم کے سردار تھے، اور سیدنا خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في نسخنا الخطية: وكبرائهم، بالواو بدل "من"، والصواب ما أثبتنا من "إتحاف المهرة" 4/ 442.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے خطی نسخوں میں "من" کے بجائے "وکبرائہم" (واؤ کے ساتھ) ہے، جبکہ صحیح وہی ہے جو ہم نے "إتحاف المهرة" 4/ 442 کے حوالے سے متن میں درج کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہمارے خطی نسخوں میں "من" کے بجائے "وکبرائہم" (واؤ کے ساتھ) ہے، جبکہ صحیح وہی ہے جو ہم نے "إتحاف المهرة" 4/ 442 کے حوالے سے متن میں درج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6654 سے ماخوذ ہے۔