المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا بسر بن ابی ارطاة رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6649
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: بُسْرُ بن أبي أَرْطأةَ -واسم أبي أَرْطاةَ عُمَيرٌ- بن عَمرو (2) بن عُوَيمِر بن عِمْران بن الحُلَيس (3) بن سيَّار بن نِزَار بن مَعِيص بن عامر بن لُؤَيٍّ.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بسر بن ابی ارطاۃ —اور ابو ارطاۃ کا نام عمیر تھا— بن عمرو بن عویمر بن عمران بن حلیس بن سیار بن نزار بن معیص بن عامر بن لؤی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا وقع عند المصنف بزيادة عمرو في نسبه، والذي في "نسب قريش" لمصعب ص 439: أنَّ عويمر بن عمران وَلَد أبا أرطاة عميرًا، وأخًا له آخر اسمه عويمر، ولم يذكر في النسب عمرًا.
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں ان کے نسب میں "عمرو" کے نام کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ مصعب کی "نسب قريش" ص 439 کے مطابق عویمر بن عمران کے بیٹوں میں ابو ارطاة عمیر اور ایک دوسرے بھائی عویمر کا ذکر تو ہے، مگر نسب میں "عمرو" کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحابس.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں لفظ "الحابس" تحریف (کتابت کی غلطی) کا شکار ہو گیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں ان کے نسب میں "عمرو" کے نام کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ مصعب کی "نسب قريش" ص 439 کے مطابق عویمر بن عمران کے بیٹوں میں ابو ارطاة عمیر اور ایک دوسرے بھائی عویمر کا ذکر تو ہے، مگر نسب میں "عمرو" کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحابس.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں لفظ "الحابس" تحریف (کتابت کی غلطی) کا شکار ہو گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6649 سے ماخوذ ہے۔