حدیث نمبر: 6650
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيّاط قال: مات بُسْر بن أبي أرْطاة في خلافة معاوية، وكان قد كَبِرَ سنُّه حتى خَرِفَ، وكان يُكنَى أبا عبد الرحمن، تُوفِّي بالمدينة، وله دارٌ بالبَصْرة (4).
حافظ طلحہ بابر

خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ: بسر بن ابی ارطاۃ کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوئی، وہ طویل العمر ہوئے یہاں تک کہ ان کی عقل میں فتور آ گیا تھا، ان کی کنیت ابو عبدالرحمن تھی، مدینہ منورہ میں فوت ہوئے اور بصرہ میں ان کا ایک گھر ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6650
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6650] [ترقيم الشركة 6571]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) كذا في "طبقات خليفة" ص 27، وفي (ص) و (م) وولد بالبصرة، وفي (ب): وولده بالبصرة.
حوالہ / مصدر: "طبقات خليفة" ص 27 میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور (م) میں "وولد بالبصرة" (وہ بصرہ میں پیدا ہوئے) اور نسخہ (ب) میں "وولده بالبصرة" (ان کی اولاد بصرہ میں ہے) کے الفاظ ہیں۔
وما وقع عند المصنف قبلُ من أنه مات في خلافة معاوية، فغلطٌ أيضًا، فإن خليفة ذكر في "طبقاته" ص 27 و "تاريخه" ص 292 أنه مات في ولاية عبد الملك بن مروان، وهو الصواب المتفَق عليه.
فنی نکتہ / علّت: مصنف نے اس سے قبل جو یہ ذکر کیا کہ ان کی وفات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوئی، وہ بھی غلط ہے؛ کیونکہ خلیفہ بن خیاط نے اپنی "طبقات" ص 27 اور "تاریخ" ص 292 میں صراحت کی ہے کہ ان کی وفات عبد الملک بن مروان کے دورِ حکومت میں ہوئی، اور یہی متفقہ طور پر درست بات ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6650 سے ماخوذ ہے۔