حدیث نمبر: 6617
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة ابن خيَّاط قال: وعبد الله بن مُغفَّل المُزَنِي، يُكنى أبا سعيد. وذَكَرَ هذا النسبَ وزاد فيه: وأمُّه العَبْلة بنت معاوية بن معاوية (1) من مُزينة، وله دارٌ بالبصرة بحَضْرة الجامع.
حافظ طلحہ بابر

خلیفہ بن خیاط سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوسعید تھی، انہوں نے سابقہ نسب ہی بیان کیا لیکن اس میں یہ اضافہ کیا کہ ان کی والدہ کا نام ابلہ بنت معاویہ بن معاویہ تھا جن کا تعلق قبیلہ مزینہ سے تھا، اور بصرہ کی جامع مسجد کے پاس ان کا ایک گھر تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6617
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6617] [ترقيم الشركة 6538]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: معاوية بن قرة، والظاهر أنه سبق قلم، والمثبت من "طبقات خليفة" ص 37 و 176.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں "معاویہ بن قرہ" لکھا ہے، لیکن ظاہر یہی ہوتا ہے کہ یہ کاتب کی لغزش (سبقِ قلم) ہے، لہٰذا ہم نے "طبقات خلیفہ" ص 37 اور 176 کی روشنی میں درست نام درج کر دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6617 سے ماخوذ ہے۔