المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ ابْنُ عُمَرَ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ . باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس امت کے بہترین افراد میں سے تھے
حدیث نمبر: 6511
قال أبو عِمران (2): وحدثنا عمر بن محمد، حدثنا أبي، حدثنا محمد ابن أبانَ، عن السُّدِّي، عن سعيد بن جُبير قال: رأيتُ ابنَ عمر وأبا هريرة وأبا سعيد وغيرهم، كانوا يَرَونَ أنه ليس أحدٌ منهم على الحال التي فارَقَ عليها محمدًا ﷺ غيرَ ابن عمر.
حافظ طلحہ بابر
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہم اجمعین اور دیگر صحابہ کرام کو دیکھا، وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان میں سے کوئی بھی اس حال پر باقی نہیں رہا جس پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑا تھا سوائے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے (کہ وہ اپنے زہد اور طریقے پر سختی سے قائم رہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هو موسى بن هارون ابن الحمّال، انظر ترجمته في "السير" 12/ 116.
فنی نکتہ / علّت: یہاں موسیٰ بن ہارون سے مراد "ابن الحمال" ہیں۔
حوالہ / مصدر: ان کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) کے لیے دیکھیے: "سیر اعلام النبلاء" (12/ 116)۔
فنی نکتہ / علّت: یہاں موسیٰ بن ہارون سے مراد "ابن الحمال" ہیں۔
حوالہ / مصدر: ان کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) کے لیے دیکھیے: "سیر اعلام النبلاء" (12/ 116)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6511 سے ماخوذ ہے۔