حدیث نمبر: 6453
قال ابن عمر: وحدثني إسحاق بن يحيى، حدثنا أبو سَلَمة الحضرمي قال: رأيتُ قبرَ ابن عبّاس وابنُ الحنفيّة قائمٌ عليه، فأَمَرَ به أن يُسطَّحَ (2).
حافظ طلحہ بابر

ابو سلمہ حضرمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قبر دیکھی تو محمد بن حنفیہ وہاں کھڑے تھے، انہوں نے حکم دیا کہ قبر کو سطح زمین کے برابر (سطح) کر دیا جائے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6453
تخریج حدیث «إسحاق بن يحيى: هو ابن طلحة بن عبيد الله التيمي، وهو متفق على ضعفه.» [ترقيم الرساله 6453] [ترقيم الشركة 6378]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسحاق بن يحيى: هو ابن طلحة بن عبيد الله التيمي، وهو متفق على ضعفه.
درجۂ حدیث: اسحاق بن یحییٰ (ابن طلحہ بن عبید اللہ التیمی) نامی راوی کی موجودگی کی وجہ سے روایت ضعیف ہے، کیونکہ ان کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔
ورواه من طريق الواقدي الطبريُّ في "ذيل المذيَّل" كما في منتخبه المطبوع في آخر "تاريخه" 11/ 525.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی کے طریق سے امام طبری نے "ذیل المذیل" میں روایت کیا ہے، جیسا کہ ان کی "تاریخ" (11/ 525) کے آخر میں مطبوعہ منتخب حصے میں موجود ہے۔
وتسطيح القبر: تسويته وعدم تسنيمه.
نوٹ / توضیح: "تسطیح القبر" کا فنی مطلب قبر کو اوپر سے برابر (ہموار) کرنا ہے، اسے کوہان نما (تسنیم) نہ بنانا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6453 سے ماخوذ ہے۔