حدیث نمبر: 6452
قال ابن عمر: وحدثني عبد الله بن جعفر، حدثتني أمُّ بكرٍ بنت المِسوَر ابن مَحْرَمة: أنَّ المِسوَرَ بن مَخرَمة اعتَلَّ، فجاءه ابنُ عبّاس نصفَ النهار يعودُه، فقال له المسور: يا أبا عبّاس، هلَّا ساعةً غيرَ هذه؟ قال: فقال ابن عبّاس: إِنَّ أَحبَّ الساعاتِ إلي أن أؤدِّيَ فيها الحقِّ إليك، أشَقُها عليَّ (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ ام بکر بنت مسور بن مخرمہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما دوپہر کے وقت ان کی عیادت کے لیے آئے، مسور نے ان سے کہا: اے ابوالعباس! کیا اس کے علاوہ کوئی اور وقت نہیں تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میرے نزدیک سب سے پسندیدہ گھڑی وہی ہے جس میں آپ کا حق ادا کرنا مجھ پر سب سے زیادہ گراں (مشکل) ہو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6452
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6452] [ترقيم الشركة 6377]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) من فوق الواقدي لا بأس بهم. وأم بكر بنت المسور عمّة أبي عبد الله بن جعفر.
فنی نکتہ / علّت: الواقدی سے اوپر کے راویوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ام بگر بنت المسور، ابوعبداللہ بن جعفر کی پھوپھی ہیں۔
ورواه عن الواقدي ابنُ سعد في "الطبقات" 7/ 581، ومن طريقه ابن عساكر 27/ 306.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی (محمد بن عمر) کے واسطے سے ابن سعد نے "الطبقات" (7/ 581) میں روایت کیا ہے، اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے (27/ 306) میں اسے نقل کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6452 سے ماخوذ ہے۔