حدیث نمبر: 6454
أخبرني قاضي قضاة المسلمين أبو الحَسَن (3) محمد بن صالح بن علي، حدثنا أبو أحمد محمد بن أحمد الجَرِيري، حدثنا أبو جعفر أحمد بن الحارث الخرَّاز، حدثنا علي بن محمد المَدائني، حدثنا سُحَيم بن حفص قال: قال أبو بَكْرة: قَدِمَ علينا عبدُ الله بن عبّاس البصرةَ وما في العرب مثلُه حشمًا وعلمًا وبيانًا وجمالًا وكمالًا. قال علي بن محمد: ووَلَدَ عبدُ الله بن عبّاس عَليًّا، وهو سيد ولدِه، وُلِدَ سنة أربعين، ويقال: وُلد عامَ الجَمَل سنة ست وثلاثين، وكان أجملَ قرشيٍّ على الأرض وأوسمَه، وأكثرَه صلاةً، وكان يُدعَى السَّجّاد، وفي عَقِبِه الخِلافةُ، وعبّاسًا، وهو أكبرُ ولدِه وبه كان يُكنّى، ومحمدًا وعُبيدَ الله والفضلَ ولُبابةَ، أمُّهم زُرْعةُ بنت مِسرَح بن مَعدِي كَرِبَ بن وَلِيعة، ومِسرحٌ أحد الملوك الأربعة، ولا بقيَّة للعبّاس وعبيد الله والفضلِ ومحمد بني عبد الله بن عبّاس، وأما لُبابةُ بنتُ عبد الله فإنها كانت تحت عليِّ بن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب، فوَلَدَت له، ولولدِها أعقابٌ، وأسماءُ بنتُ عبد الله كانت عند عَبد الله بن عُبيد الله بن العبّاس، فوَلَدَت له حَسنًا وحُسينًا، وأمها أم ولد.
حافظ طلحہ بابر

ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہمارے پاس بصرہ تشریف لائے تو پورے عرب میں ان جیسا کوئی نہیں تھا خواہ وہ جاہ و جلال ہو، علم و بصیرت ہو، فصاحت و بلاغت ہو یا حسن و جمال۔ علی بن محمد کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں علی پیدا ہوئے جو ان کی اولاد میں سب سے ممتاز تھے، ان کی پیدائش سن 40 ہجری میں یا جنگِ جمل کے سال سن 36 ہجری میں ہوئی، وہ روئے زمین پر سب سے حسین قریشی اور کثرت سے نماز پڑھنے والے تھے جنہیں ”سجاد“ کے لقب سے پکارا جاتا تھا اور خلافت ان ہی کی نسل میں جاری ہوئی، ان کے دیگر بیٹوں میں عباس (جو سب سے بڑے تھے اور ان ہی کے نام پر ابن عباس کی کنیت تھی)، محمد، عبیداللہ اور فضل شامل ہیں جبکہ بیٹیوں میں لبابہ تھیں، ان سب کی والدہ زرعہ بنت مسرح تھیں اور ان کے والد مسرح (یمن کے) چار بادشاہوں میں سے ایک تھے، عباس، عبیداللہ، فضل اور محمد کی نسل آگے نہیں چلی، جبکہ لبابہ کی شادی علی بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب سے ہوئی جن سے ان کی اولاد چلی، اور اسماء بنت عبداللہ کی شادی عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے ہوئی جن سے حسن اور حسین پیدا ہوئے اور ان کی والدہ ام ولد تھیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6454
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6454] [ترقيم الشركة 6379]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسين. وانظر ترجمته في "السير" 16/ 226.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "الحسین" ہو گیا ہے (جبکہ درست نام کچھ اور ہے)۔ اس راوی کے حالاتِ زندگی کے لیے "سیر اعلام النبلاء" (16/ 226) ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6454 سے ماخوذ ہے۔