المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ باب: قیامت سے پہلے دھوئیں کے ٹکڑوں جیسی فتنے ہوں گے
حدیث نمبر: 6365
ما أخبرَنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا سعيد بن إياس الجُرَيري، عن أبي العلاء بن عبد الله بن الشِّخَير قال: سمعت أبا سعيدٍ الضَّحّاك (2) ابن قيس الفِهْريِّ يَقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "إذا أَتى الرجلُ القومَ فقالوا: مَرحبًا، فمَرحبًا به يومَ يَلقَى ربَّه، وإذا أتى الرجلُ القومَ فقالوا له: قَحْطًا، فقَحطًا له يومَ القيامة" (3). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6235 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
ابو العلاء بن عبداللہ بن شخیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ضحاک بن قیس فہری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس وقت کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے کہیں کہ ”خوش آمدید“ تو اس دن بھی اسے خوش آمدید کہا جائے گا جس دن وہ اپنے رب سے ملے گا، اور جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ اسے کہیں کہ ”تجھ پر قحط و تنگی ہو“ تو قیامت کے دن اس کے لیے بھی قحط و تنگی ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: أبا سعيد بن الضحاك، وهو خطأ، فإنَّ كنية أبي سعيد أحد أوجه الخلاف في تكنية الضحاك كما في "معرفة الصحابة" لأبي نعيم 3/ 1537، و "سير أعلام النبلاء" 3/ 241.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'ابا سعید بن الضحاک' لکھا ہے جو غلط ہے؛ اصل میں 'ابو سعید' خود حضرت ضحاک کی کنیت میں ایک اختلافی قول ہے۔ (دیکھیں: سیر اعلام النبلاء 3/ 241)۔
(3) الصحيح أنه من قول أبي العلاء بن الشخير، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، إلّا أنَّ حماد ابن سلمة قد خولف فيه كما سيأتي. وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8136)، و "الأوسط" (2514) من طريق أبي عمر الضرير، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابو العلاء بن الشخیر کا اپنا قول ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں حرج نہیں، مگر حماد بن سلمہ کی اس میں مخالفت کی گئی ہے۔ اسے طبرانی نے ابو عمر الضریر عن حماد بن سلمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "الزهد" لأبيه (1375) عن أحمد بن إبراهيم الدورقي، عن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا أبو الأشهب -وهو جعفر بن حيان العطاردي- قال: سمعت أبا العلاء يقول: إذا أتى الرجل .. القوم فذكره. وهذا إسناد صحيح حجّة، وهذا هو الصواب إن شاء الله، ولعلَّ حمادًا أو سعيدًا وهم فيه فرفعه.
درجۂ حدیث: عبد اللہ بن احمد کی یہ سند بالکل صحیح اور 'حجت' ہے، اور یہی ان شاء اللہ درست ہے کہ یہ 'موقوف' قول ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حماد یا سعید کو وہم ہوا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اسے 'مرفوع' (نبی ﷺ کا فرمان) بنا کر بیان کر دیا۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'ابا سعید بن الضحاک' لکھا ہے جو غلط ہے؛ اصل میں 'ابو سعید' خود حضرت ضحاک کی کنیت میں ایک اختلافی قول ہے۔ (دیکھیں: سیر اعلام النبلاء 3/ 241)۔
(3) الصحيح أنه من قول أبي العلاء بن الشخير، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، إلّا أنَّ حماد ابن سلمة قد خولف فيه كما سيأتي. وأخرجه الطبراني في "الكبير" (8136)، و "الأوسط" (2514) من طريق أبي عمر الضرير، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابو العلاء بن الشخیر کا اپنا قول ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں حرج نہیں، مگر حماد بن سلمہ کی اس میں مخالفت کی گئی ہے۔ اسے طبرانی نے ابو عمر الضریر عن حماد بن سلمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "الزهد" لأبيه (1375) عن أحمد بن إبراهيم الدورقي، عن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا أبو الأشهب -وهو جعفر بن حيان العطاردي- قال: سمعت أبا العلاء يقول: إذا أتى الرجل .. القوم فذكره. وهذا إسناد صحيح حجّة، وهذا هو الصواب إن شاء الله، ولعلَّ حمادًا أو سعيدًا وهم فيه فرفعه.
درجۂ حدیث: عبد اللہ بن احمد کی یہ سند بالکل صحیح اور 'حجت' ہے، اور یہی ان شاء اللہ درست ہے کہ یہ 'موقوف' قول ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حماد یا سعید کو وہم ہوا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اسے 'مرفوع' (نبی ﷺ کا فرمان) بنا کر بیان کر دیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6365 سے ماخوذ ہے۔