المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ رِوَايَاتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ سے ضحاک بن قیس کی روایات کا ذکر
حدیث نمبر: 6363
ما حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ من أصلِ كتابه، حدثنا أبو محمد الفضل بن محمد البَيَهقي، حدثنا سُنَيد بن داود المصيصي، حدثنا حَجّاج ابن محمد، عن ابن جُرَيج، حدثني محمد بن طَلْحة، عن معاوية بن أبي سفيان، حدثني الضحّاكُ بن قيس، وهو عَدْلٌ مَرْضيٌّ، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "لا يزالُ والٍ من قرُيشٍ" (1). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6233 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ضحاک بن قیس نے حدیث بیان کی اور وہ ایک قابلِ اعتماد اور پسندیدہ شخصیت ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قریش میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی حکمران رہے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن طلحة -وهو ابن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر التيمي- لم يدرك معاوية بن أبي سفيان.
درجۂ حدیث: یہ روایت 'صحیح لغیرہ' ہے، مگر محمد بن طلحہ کا حضرت معاویہ سے سماع نہ ہونے (انقطاع) کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (858)، والطبراني (8134) -ومن طريقه أبو نعيم في معرفة الصحابة (3896) - من طريقين عن سنيد بن داود، بهذا الإسناد. وتحرّف ابن جريج في المطبوع من أبي نعيم إلى: ابن جبر.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم، طبرانی (8134) اور ابو نعیم نے سنید بن داؤد کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ابو نعیم کے مطبوعہ نسخے میں 'ابن جریج' غلطی سے 'ابن جبر' چھپ گیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 24/ 281 من طريق يوسف بن سعيد بن مسلم المصيصي الحافظ، عن حجاج بن محمد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (24/ 281) نے حافظ یوسف بن سعید المصیصی عن حجاج بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ المرفوع عن معاوية نفسه أنه سمعه من النبي ﷺ وذلك فيما أخرجه أحمد 28 / (16852)، والبخاري (3500) و (7139) من طريق الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم عن معاوية أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ هذا الأمر في قريش … ".
درجۂ حدیث: حضرت معاویہ سے یہ 'مرفوع' روایت بالکل صحیح ثابت ہے کہ: "بیشک یہ معاملہ (خلافت) قریش میں رہے گا..."۔ (دیکھیں: احمد 28/ 16852، بخاری 3500، 7139)۔
وله شاهد أيضًا من حديث عبد الله بن عمر عند أحمد 8 / (4832) وغيره، وهو في "الصحيحين".
متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: یہ روایت 'صحیح لغیرہ' ہے، مگر محمد بن طلحہ کا حضرت معاویہ سے سماع نہ ہونے (انقطاع) کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (858)، والطبراني (8134) -ومن طريقه أبو نعيم في معرفة الصحابة (3896) - من طريقين عن سنيد بن داود، بهذا الإسناد. وتحرّف ابن جريج في المطبوع من أبي نعيم إلى: ابن جبر.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی عاصم، طبرانی (8134) اور ابو نعیم نے سنید بن داؤد کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ابو نعیم کے مطبوعہ نسخے میں 'ابن جریج' غلطی سے 'ابن جبر' چھپ گیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 24/ 281 من طريق يوسف بن سعيد بن مسلم المصيصي الحافظ، عن حجاج بن محمد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (24/ 281) نے حافظ یوسف بن سعید المصیصی عن حجاج بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقد صحَّ المرفوع عن معاوية نفسه أنه سمعه من النبي ﷺ وذلك فيما أخرجه أحمد 28 / (16852)، والبخاري (3500) و (7139) من طريق الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم عن معاوية أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ هذا الأمر في قريش … ".
درجۂ حدیث: حضرت معاویہ سے یہ 'مرفوع' روایت بالکل صحیح ثابت ہے کہ: "بیشک یہ معاملہ (خلافت) قریش میں رہے گا..."۔ (دیکھیں: احمد 28/ 16852، بخاری 3500، 7139)۔
وله شاهد أيضًا من حديث عبد الله بن عمر عند أحمد 8 / (4832) وغيره، وهو في "الصحيحين".
متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6363 سے ماخوذ ہے۔