حدیث نمبر: 631
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله بن المبارَك، عن يونس بن نافع، عن كَثِير بن زياد أبي سَهْل قال: حدثتني مُسَّةُ الأزديَّة قالت: حَجَجْتُ فدخلتُ على أمّ سلمة فقلت: يا أمّ المؤمنين، إنَّ سَمُرةَ بن جُندب يأمر النساءَ يَقضِينَ صلاةَ المَحِيض، فقالت: لا يَقضِينَ، كانت المرأة من نساء النَّبِيِّ ﷺ تَقعُدُ في النِّفَاس أربعين ليلةً لا يأمُرها النَّبِيّ ﷺ بقضاء صلاة النِّفاس (1).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ في معناه غيرَ هذا. وشاهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 622 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

مسہ ازدیہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حج کیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی: ”اے ام المؤمنین! سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حیض کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیتے ہیں،“ انہوں نے فرمایا: ”وہ قضا نہ کریں، نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے جو عورت نفاس کی حالت میں ہوتی تھی وہ چالیس راتیں بیٹھی رہتی تھی اور نبی کریم ﷺ اسے نفاس کی نمازیں قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کا شاہد بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 631
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتم
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل مسَّة الأزدية» [ترقيم الرساله 631] [ترقيم الشركة 626] [ترقيم العلميه 622]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل مسَّة الأزدية. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي.
درجۂ حدیث: مَسّہ الازدية کی وجہ سے اس کی سند ان شاء اللہ حسن تسلیم کی جا سکتی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابوالوجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری اور عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (312) من طريق محمد بن حاتم، عن ابن المبارك، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (312) میں محمد بن حاتم عن عبداللہ بن مبارک کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقوله فيه: "من نساء النَّبِيّ" الظاهر أنه وهمٌ من يونس بن نافع راويه عن أبي سهل، فقد نصُّوا على أنه يخطئ، وقد وصف ابن القطان في "الوهم والإيهام" 3/ 329 هذا المتن بأنه منكر وقال: إنَّ أزواج النَّبِيّ ﷺ ما منهن من كانت نُفَساء أيام كونها معه إلّا خديجة وزوجيَّتها كانت قبل الهجرة، فإذًا لا معنى لقولها: "قد كانت المرأة من نساء النَّبِيّ ﷺ تقعد في النفاس أربعين يومًا" إلّا أن تريد بنسائه غيرَ أزواجه من بنات وقريبات وسُرِّيَّته مارية.
فنی نکتہ / علّت: اس میں لفظ "نبی ﷺ کی عورتوں میں سے" بظاہر یونس بن نافع کا وہم ہے، کیونکہ محدثین کے نزدیک وہ غلطیاں کرتے تھے۔ ابن القطان نے اس متن کو "منکر" قرار دیا ہے کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ (جن کا نکاح ہجرت سے پہلے تھا) کسی اور زوجہ مطہرہ کو نبی ﷺ کے نکاح میں رہتے ہوئے نفاس (بچہ کی پیدائش کے بعد کا خون) پیش نہیں آیا۔
اہم نکتہ: لہٰذا اس قول کا مطلب یا تو آپ ﷺ کی بیٹیاں اور قریبی خواتین ہیں یا پھر آپ ﷺ کی باندی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 631 سے ماخوذ ہے۔