المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
جَعْلُ الْأَذَانِ لِبَنِي أَبِي مَحْذُورَةَ باب: اذان ابو محذورہ کی اولاد کے لیے مقرر کی گئی
حدیث نمبر: 6307
أخبرني جعفر بن محمد بن نُصير الخُلْدي، حَدَّثَنَا محمد بن علي بن زيد المكِّي، حَدَّثَنَا محمد بن معاوية، حَدَّثَنَا الهُذَيل بن بلال قال: سمعت ابنَ أبي مَحذُورة يحدِّث عن أبيه قال: جعل رسول الله ﷺ لبني عبد المطَّلِب السِّقايةَ، ولبني عبد الدَّار الحِجابةَ، وجعل الأذانَ لنا ولمَوالِينا (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن ابومحذورہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو عبدالمطلب کے لیے ”سقایہ“ (حجاج کو پانی پلانا) اور بنو عبدالدار کے لیے ”حجابہ“ (کعبہ کی دربانی و کلید برداری) مقرر فرمائی، جبکہ اذان کا منصب ہمارے اور ہمارے موالی کے لیے مقرر فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناد تالف من أجل محمد بن معاوية - وهو ابن أَعين أبو علي النيسابوري - فإنه متروك الحديث واتهمه أحمد وابن معين بالكذب، لكنه متابع، وشيخه الهذيل بن بلال فأكثر أهل الحديث على تضعيفه، وانظر ترجمته في "تعجيل المنفعة" (1129)، وقد انفرد بهذا الحديث واختُلف عليه في إسناده.
درجۂ حدیث: یہ سند 'تالف' (تباہ حال) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن معاویہ نیشاپوری 'متروک' ہیں اور ائمہ نے انہیں کذاب قرار دیا ہے۔ ان کے استاد ہذیل بن بلال بھی ضعیف ہیں اور اس حدیث کے بیان میں منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 45/ (27253) عن خلف بن الوليد، عن هذيل بن بلال، بهذا الإسناد. وانظر تمام تخريجه والكلام على الخلاف في إسناده هناك.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (45/ 27253) نے خلف بن ولید عن ہذیل بن بلال کی سند سے روایت کیا ہے۔ سند کے اختلافات کی تفصیل وہیں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند 'تالف' (تباہ حال) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن معاویہ نیشاپوری 'متروک' ہیں اور ائمہ نے انہیں کذاب قرار دیا ہے۔ ان کے استاد ہذیل بن بلال بھی ضعیف ہیں اور اس حدیث کے بیان میں منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 45/ (27253) عن خلف بن الوليد، عن هذيل بن بلال، بهذا الإسناد. وانظر تمام تخريجه والكلام على الخلاف في إسناده هناك.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (45/ 27253) نے خلف بن ولید عن ہذیل بن بلال کی سند سے روایت کیا ہے۔ سند کے اختلافات کی تفصیل وہیں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6307 سے ماخوذ ہے۔