حدیث نمبر: 6295
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن محمد بن عُمارة بن عمرو بن حَزْم: أنه قَعَدَ في مجلسٍ فيه أبو هريرة، وفيه مَشْيَخة من أصحاب رسول الله ﷺ بضعةَ عشرَ رجلًا، فجعل أبو هريرة يحدِّثُهم عن رسول الله ﷺ، يُنكِره بعضُهم ويَعرِفه البعضُ، حتَّى فعل ذلك مِرارًا، فعرفتُ يومئذٍ أن أبا هريرة أحفظُ الناسِ عن رسول الله ﷺ (4).
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمارہ بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ موجود تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دس سے زیادہ عمر رسیدہ صحابہ بھی وہاں تشریف فرما تھے، پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنانے لگے، ان میں سے بعض صحابہ کسی حدیث کا انکار کرتے اور بعض اسے پہچان لیتے، یہاں تک کہ انہوں نے کئی بار ایسا کیا، تو میں نے اسی دن جان لیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو لوگوں میں سب سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6295
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل إسماعيل بن أبي أويس وشيخه ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن بن أبي الزناد. وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 186 - 187، وابن عساكر 67/ 339 من طريق إسماعيل بن أبي أويس، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 6295] [ترقيم الشركة 6228]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده حسن من أجل إسماعيل بن أبي أويس وشيخه ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن بن أبي الزناد. وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 186 - 187، وابن عساكر 67/ 339 من طريق إسماعيل بن أبي أويس، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: عبد الرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے یہ سند 'حسن' ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" اور ابن عساکر نے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6295 سے ماخوذ ہے۔