حدیث نمبر: 6247
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة محمد بن عمرو بن خالد، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير، في تسمية من شَهِدَ بدرًا من قُريش ثم من بني مَخزُوم: الأرقمُ بنُ أبي الأرقمُ، واسم أبي الأرقم عبدُ مَناف بنُ عبد الله بن عمر بن مخزوم، وكان الأرقم يُكْنى أبا خِندِف (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ارقم بن ابی ارقم مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ قریش میں سے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے ناموں میں بنو مخزوم سے سیدنا ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ شامل تھے، ان کے والد ابوارقم کا نام عبد مناف بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا، اور ارقم کی کنیت ابو خندف تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6247
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6247] [ترقيم الشركة 6184]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (م): جندب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں یہ نام 'جندب' مذکور ہے۔
ورواه عن محمد بن عمرو بن خالد أيضًا الطبراني في "الكبير" (905)، وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1017)، وفي روايته واسم أبي الأرقم عبد مناف ويكنى أبا خندف، فجعل الكنية لأبي الأرقم وليس للأرقم كما وقع للمصنف.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے 'الکبیر' (905) میں محمد بن عمرو بن خالد سے روایت کیا ہے، اور ان سے ابو نعیم نے 'معرفۃ الصحابہ' (1017) میں۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں ابو الارقم کا نام عبد مناف اور کنیت 'ابو خندف' بتائی گئی ہے، یعنی کنیت الارقم کے بجائے ان کے والد (ابو الارقم) کی قرار دی گئی ہے۔
وجعل محمد بن سعد في "طبقاته" 3/ 223 هذه الكنية لجده أسد بن عبد الله، إلّا أنه وقع عنده: أبو جندب، وكنى الأرقم أبا عبد الله، وتبعه على ذلك كل من ترجم للأرقم كأبي نعيم وغيره، وهو المشهور عندهم.
ناموں کی تحقیق: ابن سعد نے 'الطبقات' (3/ 223) میں یہ کنیت ان کے دادا اسد بن عبد اللہ کے لیے لکھی ہے مگر ان کے ہاں یہ 'ابو جندب' ہے۔
اہم نکتہ: مشہور یہی ہے کہ الارقم کی کنیت 'ابو عبد اللہ' ہے، جیسا کہ ابو نعیم اور دیگر تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6247 سے ماخوذ ہے۔