المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِجَابَةُ دُعَاءِ سَعْدٍ فِي حَقِّ رَاكِبٍ سَبَّ عَلِيًّا باب: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
حدیث نمبر: 6243
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا صفوان بن عيسى، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب قال: كنت جالسًا مع سعدٍ، فجاء رجل يقال له: الحارثُ ابن بَرْصاءَ، وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إن كنت آنِفًا عند مروانَ فسمعتُه وهو يقول: إنَّ هذا المالَ مالُنا، نُعطيهِ من نشاءُ (3)، قال فرفع سعدٌ يده وقال: أفَأَدْعُو؟! فَوَثَبَ مروانُ وهو على سريره فاعتنقَه، قال: أَنشُدُكَ يا أبا إسحاق أن تدعوَ، فإنما هو مالُ الله (4).
حافظ طلحہ بابر
سعید بن مسیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھا تھا کہ حارث بن برصاء نامی ایک شخص آیا اور ان سے کہنے لگا: اے ابو اسحاق! ابھی میں مروان کے پاس تھا اور میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ: ”یہ مال ہمارا مال ہے، ہم جسے چاہیں عطا کریں۔“ یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: ”تو کیا میں (تمہارے خلاف) بددعا کروں؟“ مروان اپنی نشست سے اچھل کر ان کی طرف لپکا اور ان سے بغل گیر ہو کر کہنے لگا: ”اے ابو اسحاق! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ بددعا نہ کریں، یقیناً یہ اللہ ہی کا مال ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في (ز) و (ب): من شئنا، والمثبت من (م) و (ص).
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "من شئنا" ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (م) اور (ص) کے مطابق متن درج کیا ہے۔
(4) إسناده قوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "من شئنا" ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (م) اور (ص) کے مطابق متن درج کیا ہے۔
(4) إسناده قوي.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6243 سے ماخوذ ہے۔