المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِجَابَةُ دُعَاءِ سَعْدٍ فِي حَقِّ رَاكِبٍ سَبَّ عَلِيًّا باب: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دعا کا قبول ہونا اس شخص کے بارے میں جس نے سواری پر بیٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا
حدثناه أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حَدَّثَنَا مكِّيّ بن إبراهيم، حَدَّثَنَا هاشم بن هاشم، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد؛ قال: جاء الحارثُ بن البَرْصاء وهو في السُّوق، فقال له: يا أبا إسحاق، إني سمعت مروانَ يزعُمُ أنَّ مالَ الله مالُه، مَن شاء أعطاه ومَن شَاء مَنَعَه، فقال له: أنت سمعتَه يقول ذلك؟ قال: نعم، قال سعيد: فأَخذَ بيدي سعدٌ وبيدِ الحارث حتَّى دخل على مروان، فقال: يا مروانُ، أنت تَزعُمُ أَنَّ مالَ الله مالُك، من شئتَ أعطَيتَه، ومن شئتَ منعتَه؟ قال: نعم (1)، قال: فادْعُ، ورفع سعدٌ يديه، فوَثَبَ إليه مروانُ وقال: أَنشُدُك الله أن تدعوَ، هو مالُ الله مَن شاء أعطاه، ومَن شاء مَنَعَه (2).
سعید بن مسیب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حارث بن برصاء بازار میں ان کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے ابو اسحاق! میں نے مروان کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ اللہ کا مال اس کا اپنا مال ہے، وہ جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے خود یہ کہتے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، سعید کہتے ہیں کہ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے میرا اور حارث کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ وہ مروان کے پاس پہنچ گئے اور دریافت فرمایا: ”اے مروان! کیا تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ اللہ کا مال تمہارا مال ہے، جسے چاہو دو اور جسے چاہو نہ دو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: ”پھر میں بددعا کرتا ہوں،“ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے، تو مروان تڑپ کر ان کی طرف بڑھا اور کہنے لگا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ بددعا نہ کریں، یہ اللہ ہی کا مال ہے، وہ جسے چاہے عطا فرمائے اور جسے چاہے نہ دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: صرف نسخہ (ص) میں یہ اضافہ ہے: "سعید نے کہا: پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا"۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔