حدیث نمبر: 6194
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُرْوة: فيمن بايعَ رسولَ الله ﷺ بالعَقَبة من بني عمرو بن سَوَاد (4): أبو اليَسَر كعب بن عَمرو بن عبَّاد بن عمرو بن تَمِيم بن سَوَاد بن غَنْم بن كعب بن سَلِمة، من أهل بدرٍ، شَهِدَ العَقَبَةَ، وهو الذي أَسَرَ العبّاسَ بن عبد المطَّلب (5).
حافظ طلحہ بابر

عروہ سے روایت ہے کہ بنو عمرو بن سواد کے ان افراد میں جنہوں نے مقامِ عقبہ پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، ابو الیسر کعب بن عمرو بن عباد بن عمرو بن تمیم بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ بھی شامل تھے، وہ اہل بدر میں سے ہیں، انہوں نے بیعتِ عقبہ میں شرکت کی اور یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے (غزوہ بدر میں) سیدنا عباس بن عبدالمطلب کو قیدی بنایا تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6194
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6194] [ترقيم الشركة 6133]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) في النسخ الخطية في الموضعين: سوادة، بزيادة تاء مربوطة في آخره، وهو خطأ، والتصويب من كتب التراجم والأنساب.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں دونوں جگہوں پر یہ نام "سوادة" (آخر میں تاء مربوطہ کے ساتھ) لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست نام کتبِ تراجم و انساب کے مطابق (سواد) ہے۔
(5) أخرجه الطبراني في "الكبير" 19 / (366) عن أبي علاثة - وهو محمد بن عمرو بن خالد الحراني، بهذا الإسناد - دون قصة أسر العبّاس.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے 'المعجم الکبیر' (19/ 366) میں ابو علاثہ (جو کہ محمد بن عمرو بن خالد الحرانی ہیں) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر اس میں حضرت عباس کے قید ہونے کا قصہ مذکور نہیں ہے۔
وقصة أسره للعبّاس رُويت عن عبد الله بن عبّاس من غير وجه، انظر "مسند أحمد" 5/ (3310).
تفصیلِ روایت: حضرت عباس کو قید کرنے کا قصہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے متعدد طرق سے مروی ہے، دیکھیں: "مسند احمد" (5/ 3310)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6194 سے ماخوذ ہے۔