المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَخْرَمَةُ كَانَ عَالِمًا بِأَنْسَابِ قُرَيْشٍ باب: سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ قریش کے انساب کے بڑے عالم تھے
حدیث نمبر: 6188
حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم بن الفضل، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بكّار قال: لما حَضَرَت مخرمةَ بن نوفل الوفاةُ بَكَتْه ابنتُه، فقالت: وا أَبَتاه، كان هيِّنًا ليِّنًا فأفاق فقال: مَن النادبةُ؟ فقالوا: ابنتُك، فقال: تعالَيْ، فجاءت، فقال: ليس هكذا يُندَبُ مِثلي، قولي: وا أَبتاه، كان شَهمًا شَيظَميًّا، كان أبًا حَصينًا (2).
حافظ طلحہ بابر
زبیر بن بکار سے روایت ہے کہ جب سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی بیٹی ان پر رونے لگی اور کہا: ”ہائے اباجان! آپ بہت نرم دل اور شفیق تھے،“ اس پر انہیں افاقہ ہوا اور پوچھا: ”یہ بین کرنے والی کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”آپ کی بیٹی،“ انہوں نے فرمایا: ”قریب آؤ،“ جب وہ آئی تو انہوں نے کہا: ”مجھ جیسے شخص پر اس طرح بین نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ کہو: ہائے میرے اباجان! جو نہایت بہادر، قوی جثہ اور مضبوط پناہ گاہ تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هكذا في نسخنا الخطية، وتُقرأ في بعضها أبا حِصنًا. وفي النسخة المحمودية: أبًا عصيًّا، وهو الموافق لما في "تاريخ دمشق" 57/ 161 حيث رواه من طريق أحمد بن سليمان الطوسي عن الزبير بن بكار قال: وأخبرني مصعب بن عثمان قال: لما حضرت … إلخ. وهذا إسناد معضل، فإنَّ مصعب بن عثمان - وهو زبيريٌّ - لم يدرك زمن مخرمة.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح ہے، بعض میں اسے 'ابا حصنا' پڑھا جاتا ہے۔ نسخہ محمودیہ میں یہ 'ابا عصیا' ہے، اور یہی "تاریخ دمشق" (57/ 161) کے موافق ہے جہاں اسے احمد بن سلیمان الطوسی عن زبیر بن بکار عن مصعب بن عثمان کی سند سے روایت کیا گیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند 'معضل' ہے کیونکہ مصعب بن عثمان (جو کہ زبیری ہیں) نے مخرمہ بن نوفل کا زمانہ نہیں پایا۔
والشَّيظمي: الطويل الجسيم الفتيّ.
نوٹ / توضیح: 'الشیظمی' سے مراد وہ نوجوان ہے جو لمبے قد والا اور قوی الجثہ (تنومند) ہو۔
فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح ہے، بعض میں اسے 'ابا حصنا' پڑھا جاتا ہے۔ نسخہ محمودیہ میں یہ 'ابا عصیا' ہے، اور یہی "تاریخ دمشق" (57/ 161) کے موافق ہے جہاں اسے احمد بن سلیمان الطوسی عن زبیر بن بکار عن مصعب بن عثمان کی سند سے روایت کیا گیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند 'معضل' ہے کیونکہ مصعب بن عثمان (جو کہ زبیری ہیں) نے مخرمہ بن نوفل کا زمانہ نہیں پایا۔
والشَّيظمي: الطويل الجسيم الفتيّ.
نوٹ / توضیح: 'الشیظمی' سے مراد وہ نوجوان ہے جو لمبے قد والا اور قوی الجثہ (تنومند) ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6188 سے ماخوذ ہے۔