المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِسْلَامُ وَلَدِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ كُلِّهِمْ باب: سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی تمام اولاد کا اسلام قبول کرنا
حدیث نمبر: 6162
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأَسَدي الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا مِنْجاب بن الحارث، حَدَّثَنَا علي بن مُسْهِرٍ، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: كان حكيم بن حِزَام أعتَقَ مئةَ رَقَبة، وحَمَلَ على مئة بعيرٍ في الجاهلية، فلمّا أسلَم أَعتَقَ مئة رقبة، وحَمَلَ على مئة بعير، فقال لرسولِ الله ﷺ: أرأيتَ شيئًا كنتُ أصنعه في الجاهلية أتحنَّتُ، به هل لي فيه من أجرٍ؟ فقال له رسول الله ﷺ: "أَسلمتَ على ما سَلَفَ لك من أجرٍ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6047 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے اور سو اونٹوں پر (لوگوں کو) سواری مہیا کی تھی، پھر جب وہ اسلام لائے تو انہوں نے (مزید) سو غلام آزاد کیے اور سو اونٹوں پر سواری کا انتظام کیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو نیک کام میں عبادت کی نیت سے کیا کرتا تھا، کیا مجھے ان پر کوئی اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی ان سابقہ نیکیوں اور اجر کے ساتھ ہی اسلام لائے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اس کی تائید ماقبل کی بحث سے ہوتی ہے۔
قوله: "أتحنَّث به": أي: أتقرّب به إلى الله، يقال: فلان يتحنّث: أي: يفعل فعلًا يخرج به من الإثم والحرج. قاله ابن الأثير في "النهاية" (حنث).
نوٹ / توضیح: لفظ "أتحنث" کا مطلب ہے اللہ کا قرب حاصل کرنا اور گناہوں سے نکلنے والا عمل کرنا؛ جیسا کہ ابن اثیر نے "النہایہ" میں وضاحت کی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اس کی تائید ماقبل کی بحث سے ہوتی ہے۔
قوله: "أتحنَّث به": أي: أتقرّب به إلى الله، يقال: فلان يتحنّث: أي: يفعل فعلًا يخرج به من الإثم والحرج. قاله ابن الأثير في "النهاية" (حنث).
نوٹ / توضیح: لفظ "أتحنث" کا مطلب ہے اللہ کا قرب حاصل کرنا اور گناہوں سے نکلنے والا عمل کرنا؛ جیسا کہ ابن اثیر نے "النہایہ" میں وضاحت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6162 سے ماخوذ ہے۔