حدیث نمبر: 6153
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي. وحدثنا مُكرَمُ بن أحمد القاضي، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل السُّلَمي؛ قالا: حَدَّثَنَا أبو تَوْبةَ الرَّبيعُ بن نافع الحَلَبي، حَدَّثَنَا معاوية بن سَلَّام، عن زيد بن سَلَّام أخبره، أنه سمع أبا سَلَّام، حدثني أبو أسماءَ الرَّحَبي، أَنَّ ثَوْبَانَ مولى رسول الله ﷺ حدَّثه قال: كنتُ واقفًا بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ، فجاءه حَبْرٌ من أحبار اليهود، فقال: السلامُ عليك يا محمد، فدَفَعتُه دَفعةً كاد يُصرَعُ منها، فقال: لِمَ تَدفعُني؟ فقلت: ألا تقولُ: يا رسول الله، فقال اليهودي: أمَا إِنَّا ندعوهُ باسمِه الذي سمَّاه به أهلُه، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ اسمي الذي سمَّاني به أهلي: محمَّدٌ"، قال اليهودي: جئتُ أسألُكَ، فقال رسول الله ﷺ: "أينفعُك إن حدَّثتُك؟ " قال: أَسمَعُ بأُذُني، فنَكَتَ رسولُ الله ﷺ بعُودٍ، معه فقال: "سَلْ"، فقال اليهودي: أين يكونُ الناس يومَ تُبدَّلُ الأَرضُ غيرَ الأرض والسماواتُ؟ قال رسول الله ﷺ: "في الظُّلمة دونَ الجِسْر"، قال: فمَن أولُ الناس إجازةً؟ قال: "فقراءُ المهاجرين"، قال: فما تُحفَتُهم حين يدخلون الجنة؟ قال: "زيادةُ كَبِدِ النُّون"، قال: فما غداؤُهم في إِثْرِهِ؟ قال: "يُنحَر لَهم ثورُ الجنة الذي كان يَأكُل من أطرافِها"، قال: وشرابُهم عليه؟ قال: "نهرٌ فيها (1) يُسمَّى سلسبيلًا"، قال: صدقتَ. وجئتُ أسألُك عن شيءٍ لا يعلُمه أحدٌ من أهل الأرض إلَّا نبيٌّ أو رجلٌ أو رجلان، قال: "يَنفَعُكَ إِن حدَّثتُك؟ " قال: أَسمَعُ بأُذُني، قال: جئتُ أسألُك عن الولد، قال: "ماءُ الرجل أبيَضُ، وماءُ المرأة أصفَرُ، فإذا اجتمعا فعَلَا مَنِيُّ الرجل مَنِيَّ المرأةِ أَذْكَرَ بإذن الله، وإذا عَلَا مَنِيُّ المرأة مَنِيَّ الرجل آنثَا (2) بإذن الله"، قال اليهودي: صدقتَ، وإنك لنبيٌّ، ثم انصرف، فقال رسول الله ﷺ: "لقد سأَلَني هذا عن الذي سألني عنه، ولا عِلْمَ لي بشيءٍ منه حتَّى أتانيَ اللهُ به" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ذكرُ مناقب حَكِيم بن حِزَام القرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6039 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

ابو اسماء رحبی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا کہ یہودیوں کے علماء میں سے ایک عالم آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ پر سلامتی ہو، میں نے اسے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ گرنے کے قریب ہو گیا، اس نے پوچھا: تم نے مجھے دھکا کیوں دیا؟ میں نے کہا: تم نے ”یا رسول اللہ“ کیوں نہیں کہا؟ یہودی نے کہا: ہم تو انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے رکھا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً میرا وہ نام جو میرے گھر والوں نے رکھا محمد (ﷺ) ہی ہے۔“ یہودی نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے آیا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں تمہیں بتا دوں تو کیا وہ تمہیں نفع دے گا؟“ اس نے کہا: میں (جواب) اپنے کانوں سے سنوں گا، آپ ﷺ کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے آپ ﷺ زمین کریدنے لگے اور فرمایا: ”پوچھو،“ یہودی نے کہا: جس دن ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] ”زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دیے جائیں گے“ تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ پل (صراط) سے پہلے اندھیرے میں ہوں گے،“ اس نے پوچھا: سب سے پہلے اس سے کون گزرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فقراء مہاجرین،“ اس نے پوچھا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی پہلی ضیافت کس چیز سے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مچھلی کے جگر کے ٹکڑے سے،“ اس نے پوچھا: اس کے فوراً بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت کا وہ بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے کناروں پر چرتا رہا ہے،“ اس نے پوچھا: اس پر ان کا پینا کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے،“ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، پھر اس نے کہا: میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھنے آیا ہوں جسے روئے زمین پر کوئی نہیں جانتا سوائے کسی نبی کے یا ایک یا دو آدمیوں کے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں بتا دوں تو کیا تمہیں نفع ہوگا؟“ اس نے کہا: میں اسے غور سے سنوں گا، اس نے کہا: میں آپ سے بچے (کی تخلیق) کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرد کا پانی (مادہ منویہ) سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، پس جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں اور مرد کا مادہ عورت کے مادے پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے، اور جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے،“ یہودی نے کہا: آپ نے سچ فرمایا اور آپ بلاشبہ اللہ کے نبی ہیں، پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص نے مجھ سے جن باتوں کے بارے میں سوال کیا، مجھے ان کا کچھ علم نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ علم مجھے عطا فرما دیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6153
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو سلام: هو ممطور الأسود الحبشي، وهو والد معاوية وزيد ابني سلام المذكورين في السند، وأبو أسماء الرحبي: هو عمرو بن مرثد.» [ترقيم الرساله 6153] [ترقيم الشركة 6094] [ترقيم العلميه 6039]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) لفظة "فيها" من (ص) و (م)، ولم ترد في (ز) و (ب)، وهي ثابتة في رواية مسلم.
نوٹ / توضیح: لفظ "فيها" نسخہ (ص) اور (م) میں ہے جبکہ (ز) اور (ب) میں نہیں، تاہم یہ صحیح مسلم کی روایت میں ثابت ہے۔
(2) كذا في (ز)، وفي (ص) و (م) و (ب): أنثى بالألف المقصورة، أما "أذكَرَ" فوقعت كذا بالإفراد في جميع النسخ الخطية التي بين أيدينا، لكن في مصادر التخريج جاءت الكلمتان متناسقتين، فوقع في بعضها: "أذكر" و "آنث" بالإفراد، وفي بعضها "أذكرا" و "آنثا" بالتثنية، والله تعالى أعلم.
اہم نکتہ: نسخہ (ز) میں اسی طرح ہے جبکہ دیگر نسخوں میں "أنثیٰ" الف مقصورہ کے ساتھ ہے۔
نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود تمام قلمی نسخوں میں "أذكَرَ" واحد کے صیغے کے ساتھ ہے، مگر تخریج کے مصادر میں یہ دونوں الفاظ ہم آہنگ ہیں؛ یعنی یا تو دونوں واحد ہیں یا دونوں تثنیہ (أذكرا و آنثا) کے صیغے کے ساتھ ہیں۔ واللہ اعلم۔
(1) إسناده صحيح. أبو سلام: هو ممطور الأسود الحبشي، وهو والد معاوية وزيد ابني سلام المذكورين في السند، وأبو أسماء الرحبي: هو عمرو بن مرثد.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
اہم نکتہ: ابو سلام سے مراد ممطور الاسود الحبشی ہیں جو سند میں مذکور معاویہ اور زید کے والد ہیں، اور ابو اسماء الرحبی سے مراد عمرو بن مرثد ہیں۔
وأخرجه مسلم (315) (34) عن الحسن بن علي الحلواني، عن أبي توبة الربيع بن نافع، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (315/ 34) نے الحسن بن علی الحلواني کے طریق سے ابو توبہ الربیع بن نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (315)، والنسائي (9025)، وابن حبان (7422) من طرق عن معاوية بن سلام، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، نسائی اور ابن حبان نے معاویہ بن سلام کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
قوله: "فنكتَ" أي: خط بالعود في الأرض، وأثر به فيها، وهذا يفعله المفكِّر.
نوٹ / توضیح: "نکت" کے معنی ہیں زمین پر لکڑی سے لکیریں کھینچنا یا اس پر نشان بنانا؛ عام طور پر گہری سوچ میں ڈوبا ہوا شخص ایسا کرتا ہے۔
وقوله: إجازة، بمعنى الجواز والعبور
نوٹ / توضیح: "إجازۃ" کے معنی ہیں اجازت دینا یا پار کروانا (عبور)۔
والتحفة، بإسكان الحاء وفتحها: ما يهدى إلى الرجل ويخص به ويلاطف.
نوٹ / توضیح: "تحفہ" (حاء کے سکون یا فتحہ کے ساتھ) اس ہدیے کو کہتے ہیں جو کسی شخص کو خاص طور پر عزت دینے یا خوش کرنے کے لیے دیا جائے۔
والنون: الحوت.
نوٹ / توضیح: "النون" کے معنی ہیں "مچھلی"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6153 سے ماخوذ ہے۔