المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
زُهْدُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَتَدَيُّنُهُ باب: سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کا زہد اور دینداری
حدیث نمبر: 6128
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حَدَّثَنَا محمد بن النَّضْر بن سَلَمة الجارودي، حَدَّثَنَا الزُّبير بن بَكَّار، حدثني إبراهيم بن محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عَوف، عن أبيه، عن جَدِّه، قال: بَعَثَ معاويةُ إلى عبد الرحمن بن أبي بكر الصِّدِّيق بمئة ألف درهم بعد أن أبَى البيعةَ ليزيد بن معاوية، فردَّها عبدُ الرحمن وأبَى أن يأخذَها، وقال: أَبيعُ دِيني بدُنياي؟! وخرج إلى مكة حتَّى مات بها (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6015 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن محمد بن عبدالعزیز بن عمر بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کر دیا، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک لاکھ درہم بھیجے، لیکن سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے وہ رقم واپس کر دی اور اسے لینے سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا: ”کیا میں اپنے دین کو اپنی دنیا کے عوض فروخت کر دوں؟“ پھر وہ مکہ روانہ ہو گئے یہاں تک کہ وہیں ان کی وفات ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن محمد بن عبد العزيز الزهري.
درجۂ حدیث: اس کی سند ابراہیم بن محمد بن عبد العزیز الزہری کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 35/ 36 من طريق أحمد بن سليمان الطوسي، عن الزبير بن بكار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (35/ 36) میں احمد بن سلیمان الطوسی عن الزبیر بن بکار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ابراہیم بن محمد بن عبد العزیز الزہری کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 35/ 36 من طريق أحمد بن سليمان الطوسي، عن الزبير بن بكار، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (35/ 36) میں احمد بن سلیمان الطوسی عن الزبیر بن بکار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6128 سے ماخوذ ہے۔