حدیث نمبر: 6126
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي بنَيسابور، حَدَّثَنَا أبو عُلاثة، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكةَ قال: تُوفِّي عبد الرحمن بن أبي بكر بالحُبْشي من مكة على بَرِيدٍ، فلما حَجَّت عائشةُ ﵂ أَتتْ قبرَه فبَكَتْ وقالت: وكُنّا كنَدْمانَي جَذِيمةَ حِقْبةً … من الدَّهرِ حتَّى قِيلَ: لن يَتَصدَّعا فلمَّا تفرَّقْنا كأنِّي ومالكًا … لِطُولِ اجتماعٍ لم نَبِتْ ليلةً معا ثم رَدَّتْ (3) إلى مكة، وقالت: أَمَ واللهِ لو شَهِدتُك، لدفنتُك حيثُ مُتَّ (4).
حافظ طلحہ بابر

ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی وفات مکہ سے ایک برید (تقریباً 12 میل) کے فاصلے پر مقامِ حبشی میں ہوئی، پھر جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کیا تو وہ ان کی قبر پر آئیں، بہت روئیں اور (حسرت بھرے لہجے میں) یہ اشعار پڑھے: ”ہم ایک طویل عرصے تک جذیمہ کے ان دو ساتھیوں کی طرح رفیق رہے جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ کبھی جدا نہ ہوں گے، پھر جب ہم جدا ہوئے تو (موت کے اس صدمے کے بعد) مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اور مالک (میرا بھائی) طویل رفاقت کے باوجود کبھی ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے ہوں۔“ پھر وہ مکہ واپس تشریف لائیں اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو تمہیں وہیں دفن کرتی جہاں تمہاری روح نکلی تھی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6126
درجۂ حدیث محدثین: لا بأس برجاله
تخریج حدیث «لا بأس برجاله، أبو علاثة: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني ثم المصري، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.» [ترقيم الرساله 6126] [ترقيم الشركة 6068]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في (ز) و (ب): ردَّته، وهو خطأ. ومعنى ردَّت: رَجَعَت.
اہم نکتہ: نسخہ (ز) اور (ب) میں "ردَّتہ" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست لفظ "ردَّت" ہے جس کا معنی ہے "وہ واپس آئی"۔
(4) لا بأس برجاله. أبو علاثة: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني ثم المصري، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.
درجۂ حدیث: اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں (لا باس بہ)۔
اہم نکتہ: ابو علاثہ سے مراد محمد بن عمرو بن خالد الحرانی ہیں جو بعد میں مصر منتقل ہو گئے تھے، ابن جریج سے مراد عبد الملک بن عبد العزیز اور ابن ابی ملیکہ سے مراد عبد اللہ بن عبید اللہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (1055) عن الحسين بن حُريث، عن عيسى بن يونس، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (1055) میں الحسین بن حُریث عن عیسیٰ بن یونس کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6126 سے ماخوذ ہے۔