حدیث نمبر: 6014
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ ويحيى بن محمد العَنْبريُّ، قالا: حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أُميّة بن بِسْطامَ، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَجّاج الصَّوّاف، حدثني أبو إياسٍ معاويةُ (1) بن قُرّة، عن أبيه، قال: لما كان يومُ القادسيّة بُعِثَ بالمغيرة بن شعبة إلى صاحبِ فارسَ، فقال: ابعَثُوا معي عَشَرةً، فبعَثُوا، فَشَدّ عليه ثيابَه، ثم أخذ معه حَجَفَةً، ثم انطلَقَ حتى أتَوْه، فقال: ألقُوا لي تُرْسًا، فجلس عليه، فقال العِلْجُ: إنكم - مَعاشِرَ العرب - قد عَرفْتُ الذي حَمَلَكم على المَجيء إلينا، أنتم قومٌ لا تَجِدُون في بلادكم من الطعام ما تَشبَعون منه، فخُذُوا نُعطِيكُم من الطعام حاجَتَكم، فإنّا قومٌ مَجُوسٌ، وإنَّا نَكرَه قَتْلَكم، إنكم تُنجِّسون علينا أرضَنا، فقال المغيرةُ: والله ما ذاكَ جاء بنا، ولكنا كنا قومًا نَعبُد الحِجارةَ والأوثانَ، فإذا رأينا حَجَرًا أحسنَ من حَجَر القَيناهُ وأخذْنا غيرَه، ولا نَعرِفُ ربًّا، حتى بعثَ اللهُ إلينا رسولًا من أنفُسِنا، فدعانا إلى الإسلام فاتَّبَعْناه، ولم نَجِئْ للطعام، إنّا أُمِرنا بقتالِ عَدُوِّنا ممَّن تَرَك الإسلامَ، ولم نَجِئْ للطعام، ولكنا جئنا لنقتُلَ مُقاتِلتَكم، ونَسبِيَ ذَرَاريَّكم، وأما ما ذَكَرتَ من الطعام، فإنّا لَعَمْري ما نَجِدُ من الطعام ما نَشبَعُ منه، وربما لم نَجِدْ رِيًّا من الماء أحيانًا، فجئنا إلى أرضكم هذه فوجدنا فيها طعامًا كثيرًا وماءً كثيرًا، فوالله لا نَبرَحُها حتى تكون لنا أو لكم، فقال العِلْجُ بالفارسية: صَدَقَ، قال: وأنت تُفقأُ عَينُك غدًا، فَفُقِئَت عَينُه من الغدِ؛ أصابَتْه نُشّابةٌ (1). غريب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب رُكَانةَ بن عبد يزيدَ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5901 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب معرکہ قادسیہ کا دن تھا تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اہل فارس کے سربراہ کی طرف سفیر بنا کر بھیجا گیا، انہوں نے کہا: ”میرے ساتھ دس آدمی بھیج دو“، چنانچہ انہوں نے دس آدمی ساتھ روانہ کیے، انہوں نے اپنے لباس کو درست کیا، ایک چھوٹی ڈھال لی اور ان کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کہا: ”میرے بیٹھنے کے لیے ایک ڈھال رکھو“، پھر وہ اس پر بیٹھ گئے، اس عجمی نے کہا: ”اے گروہِ عرب! میں جانتا ہوں کہ تمہیں ہمارے پاس آنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے، تم ایسے لوگ ہو جنہیں اپنے ملک میں پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں ہے، تم ہم سے اپنی ضرورت کے مطابق غلہ لے لو، کیونکہ ہم مجوسی لوگ ہیں اور ہم تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتے کہ تم ہماری زمین کو ناپاک کر دو گے“، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اللہ کی قسم! ہم اس وجہ سے نہیں آئے، بلکہ ہم تو وہ لوگ تھے جو پتھروں اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، جب ہمیں کسی پتھر سے بہتر دوسرا پتھر نظر آتا تو ہم پہلے کو پھینک کر دوسرا اٹھا لیتے تھے، ہم اپنے رب کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ہی ہماری طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، اس نے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے اس کی پیروی کر لی، ہم کھانے کے لیے نہیں آئے، بلکہ ہمیں اپنے اس دشمن سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جس نے اسلام قبول نہیں کیا، ہم یہاں تمہارے جنگجوؤں کو قتل کرنے اور تمہاری نسلوں کو قیدی بنانے آئے ہیں، رہی وہ بات جو تم نے کھانے کی کہی، تو میری جان کی قسم! ہمیں واقعی پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں تھا اور بعض اوقات ہمیں پینے کا پانی بھی پورا نہیں ملتا تھا، پھر ہم تمہاری اس زمین پر آئے تو یہاں ہمیں کثرت سے کھانا اور پانی مل گیا، پس اللہ کی قسم! ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں ٹلیں گے جب تک یہ زمین ہماری نہ ہو جائے یا تمہاری“، اس پر اس عجمی نے فارسی زبان میں کہا: ”اس نے سچ کہا“، پھر اس نے کہا: ”تمہاری آنکھ کل پھوڑ دی جائے گی“، چنانچہ اگلے ہی دن ان کی آنکھ ضائع ہو گئی، انہیں ایک تیر آ کر لگا تھا۔
یہ حدیث غریب صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6014
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،حجاج الصَّوّاف: هو ابن أبي عثمان.» [ترقيم الرساله 6014] [ترقيم الشركة 5955] [ترقيم العلميه 5901]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. حجاج الصَّوّاف: هو ابن أبي عثمان.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ حجاج الصواف سے مراد ابن ابی عثمان ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20/ (861) من طرق عن أمية بن بِسْطام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الكبير" (20/ 861) میں امیہ بن بسطام کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 5/ 178، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (6227) من طريق خليفة بن خيّاط، عن يزيد بن زُريع، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (5/ 178) اور ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (6227) میں خلیفہ بن خیاط کے طریق سے یزید بن زریع سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والحَجَفة: التُّرس.
لغوی بحث: "الحَجَفَة": اس کا مطلب ڈھال (تُرس) ہے۔
والنُّشّابة: السَّهم.
لغوی بحث: "النُّشّابَة": اس کا مطلب تیر (سہم) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6014 سے ماخوذ ہے۔