حدیث نمبر: 6013
حدثنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الله بن حماد بن نُمير، حدثنا حُصَين بن نُمير، حدثني حُصَين بن عبد الرحمن، عن أبي وائل، قال: شَهِدتُ القادسيّةَ، فانطلَق المُغيرةُ بن شعبة، فلما دَنا من سَرِير رُستُم وَثَبَ فجلس معه على سَرِيرِه، فنَخَروا، فقال لهم المغيرةُ بن شعبة: مَا الذي تَفَزَعُون من هذا؟ أنا الآن أقومُ فأرجعُ إلى ما كنتُ عليه، ويَرجِعُ صاحبُكم إلى ما كان عليه، قالوا: أخبِرنا ما جاء بكم؟ فقال المغيرة: كنا ضُلّالًا، فبعث الله فينا نبيًّا فهدانا إلى دِينِه، ورَزَقَنا، فكان فيما رَزَقَنا حَبّةٌ تكون في بلادكم هذه، فلما أكلْنا منها وأطعَمْنا أهلَنا، قالوا: لا صَبْرَ لنا حتى تُنزِلُونا هذه البلادَ، قالوا: إذًا نَقتُلَكم، قال: إن قَتَلتُمونا دخلْنا الجَنَّةَ، وإن قتلناكم دخلتُم النارَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5900 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

ابووائل سے روایت ہے کہ میں معرکہ قادسیہ میں موجود تھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ (رستم کی طرف) روانہ ہوئے، جب وہ رستم کے تخت کے قریب پہنچے تو جست لگا کر اس کے ساتھ تخت پر بیٹھ گئے، اس پر درباریوں نے حقارت سے غراہٹ کی آوازیں نکالیں، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم اس بات سے کیوں گھبرا رہے ہو؟ میں ابھی اٹھ کر اپنی جگہ واپس چلا جاتا ہوں اور تمہارا یہ صاحب اپنی جگہ واپس آ جائے گا“، انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم گمراہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی مبعوث فرمایا جس نے ہمیں اپنے دین کی طرف ہدایت دی اور ہمیں رزق عطا فرمایا، اس رزق میں ایک ایسا غلہ بھی شامل تھا جو تمہارے ان علاقوں میں پایا جاتا ہے، جب ہم نے اسے کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک تم ہمیں ان علاقوں میں آباد نہیں کر دیتے“، انہوں نے کہا: تب تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم نے ہمیں قتل کر دیا تو ہم جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اگر ہم نے تمہیں قتل کر دیا تو تم آگ (جہنم) میں جاؤ گے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6013
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد ليِّن لجهالة حال عبد الله بن حماد بن نمير، وقد توبع أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.» [ترقيم الرساله 6013] [ترقيم الشركة 5954] [ترقيم العلميه 5900]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد ليِّن لجهالة حال عبد الله بن حماد بن نمير، وقد توبع أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے، اور یہ سند عبداللہ بن حماد بن نمیر کی جہالت کی وجہ سے کمزور (لین) ہے، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20/ (970) عن الحسن بن علي المَعْمري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الكبير" (20/ 970) میں حسن بن علی المعمری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 12/ 562، والطبري في "تاريخه" 3/ 496 من طريق أبي عوانة الوضاح اليشكري، عن حُصين بن عبد الرحمن، به وإسناده صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (12/ 562) اور طبری نے "تاریخ" (3/ 496) میں ابو عوانہ الوضاح الیشکری کے طریق سے حصین بن عبدالرحمن سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الطبري كذلك 3/ 525 من طريق عبيدة بن مُعتِّب الضبي، عن شقيق بن سلمة أبي وائل. وإسناده ضعيف.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے (3/ 525) میں عبیدہ بن معتب الضبی کے طریق سے شقیق بن سلمہ (ابو وائل) سے بھی روایت کیا ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔
وأخرجه بنحوه دون قصة السرير البخاري (3159) من طريق جبير بن حَيّة بالقصة.
حوالہ / مصدر: اسے تخت کے قصے کے بغیر بخاری (3159) نے جبیر بن حیہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
(1) جاء في نسخنا الخطية: حدثني إياس بن معاوية، فأصبحت رواية الخبر لأبيه معاوية بن قرة، فصار الخبر مرسلًا، وإنما الخبر لقرة بن إياس المزني الصحابي متصلًا، والتصويب من "المعجم الكبير" للطبراني 20/ (861) حيث رواه عن جماعة عن أُميّة بن بِسْطام. وكذلك رواه خليفة بن خياط عن يزيد بن ذريع.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "حدثني إياس بن معاوية" آیا ہے، جس سے یہ روایت ان کے والد معاویہ بن قرہ کی بن گئی اور خبر "مرسل" ہو گئی۔ حالانکہ یہ خبر قرہ بن ایاس المزنی صحابی سے "متصل" ہے۔ اس کی تصحیح طبرانی کی "المعجم الكبير" (20/ 861) سے کی گئی ہے جہاں انہوں نے امیہ بن بسطام سے روایت کرنے والی جماعت سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح خلیفہ بن خیاط نے بھی یزید بن زریع سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6013 سے ماخوذ ہے۔