حدیث نمبر: 6007
فحدثني الزُّبير بن عبد الله (1) البغدادي، حدثنا محمد بن حمّاد، حدثنا محمد بن أبي السَّرِيّ، حدثنا هشام بن الكَلْبي، حدثني عبد الرحمن بن سعيد الكِنْدي، قال: شَهِدْنا جِنازةَ المُغيرة بن شعبة، فلما دُلَّي فِي حُفرتِه إِذا رَاكِبٌ وَقَفَ علينا، فقال: مَن هذا المَرمُوس؟ فقلنا: أميرُ الكوفة المغيرةُ بن شُعبة، فوالله ما نَهْنَه أن قال: أَرَسْمَ دِيارٍ للمغيرةِ (2) تَعرِفُ … عليه زَوَاني الجِنِّ وَالإِنسِ تَعزِفُ فإن كُنتَ قد لاقَيتَ هامانَ بعدَنا … وفِرعونَ فَاعلَمْ أَنَّ ذَا العَرْشِ يُنصِفُ قال: فأقبَلَ عليه الثَّقفيُّون يشتُمُونه، فوالله ما أدري أيَّ طريق أخَذَ. وكانت ولايةُ المغيرة بن شُعبة الكوفةَ سبعَ سِنينَ (1).
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن سعید کندی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے، جب انہیں ان کی قبر میں اتارا گیا تو اچانک ایک سوار ہمارے پاس آ کر رکا اور اس نے پوچھا: یہ مٹی تلے چھپایا جانے والا شخص کون ہے؟ ہم نے کہا: یہ کوفہ کے امیر مغیرہ بن شعبہ ہیں، اللہ کی قسم! وہ شخص ذرا بھی نہ ہچکچایا اور یہ اشعار پڑھنے لگا: «أَرَسْمَ دِيارٍ للمغيرةِ تَعرِفُ ... عليه زَوَاني الجِنِّ وَالإِنسِ تَعزِفُ ... فإن كُنتَ قد لاقَيتَ هامانَ بعدَنا ... وفِرعونَ فَاعلَمْ أَنَّ ذَا العَرْشِ يُنصِفُ» راوی کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ اس سوار کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے گالیاں دینے لگے، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ وہ کس راستے سے غائب ہو گیا، اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی کوفہ پر گورنری کی مدت سات سال تھی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6007
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف هشام بن الكلبي» [ترقيم الرساله 6007] [ترقيم الشركة 5948]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا وقعت تسمية هذا الشيخ هنا: الزبير بن عبد الله، بتكبير اسم أبيه عبد الله، وكذلك جاء اسمه في إسناد خبر ذكره البيهقي في "شعب الإيمان" (10428) عن الحاكم، وخبر آخر ذكره الخطيب في "تاريخ بغداد" 8/ 362 عن رجل عن أبي عبد الله الحاكم أيضًا، وجاء كذلك مُسمًّى في خبر ذكره المزي في "تهذيب الكمال" 11/ 365، والذهبيّ في "سير أعلام النبلاء" 13/ 212 بتكبير اسم عبد الله، مع أنَّ الخطيب البغدادي لما ترجم لهذا الشيخ في "تاريخ بغداد" 9/ 495 سمَّى أباه عُبيد الله، مصغرًا، ونقل عن الحاكم أنه سماه بذلك، أي مصغرًا، وكذلك ترجم أبو نعيم في "تاريخ أصبهان" 1/ 323، والذهبي في "تاريخ الإسلام" 8/ 322 لهذا الشيخ فسمّيا أباه عُبيد الله، مصغرًا، فالله تعالى أعلم.
نوٹ / توضیح: اس شیخ کا نام یہاں "زبیر بن عبداللہ" (باپ کا نام مکبر) آیا ہے، اور اسی طرح بیہقی کی "شعب الإيمان" (10428) میں حاکم کی روایت میں، اور خطیب کی "تاریخ بغداد" (8/ 362) میں حاکم سے مروی ایک خبر میں بھی یہی نام ہے۔ مزی نے "تہذیب الکمال" (11/ 365) اور ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" (13/ 212) میں بھی یہی نام (مکبر) ذکر کیا ہے۔ حالانکہ خطیب نے "تاریخ بغداد" (9/ 495) میں اس شیخ کا تعارف کراتے ہوئے باپ کا نام "عبیداللہ" (مصغر) لکھا ہے اور حاکم سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ ابو نعیم نے "تاریخ اصبہان" (1/ 323) اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (8/ 322) میں بھی ان کا تعارف "عبیداللہ" (مصغر) کے نام سے کرایا ہے۔ واللہ اعلم۔
(2) في (ز) و (ب): بالمغيرة.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "بالمغیرہ" ہے۔
(1) إسناده تالف هشام بن الكلبي - وهو هشام بن محمد بن السائب - رافضي متروك، وشيخه لا يُعرف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (بالکل بیکار) ہے۔ ہشام بن الکلبی (ہشام بن محمد بن السائب) "رافضی" اور "متروک" ہیں، اور ان کا شیخ غیر معروف ہے۔
وأخرجه البَلاذُري في "أنساب الأشراف" 13/ 350 عن عباس بن هشام الكلبي، عن أبيه، به.
حوالہ / مصدر: اسے بلاذری نے "أنساب الأشراف" (13/ 350) میں عباس بن ہشام الکلبی سے اور انہوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6007 سے ماخوذ ہے۔