المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ الْمُغِيرَةُ مِنْ أَهْلِ الرَّأْيِ باب: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اہلِ رائے میں شمار ہوتے تھے
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: المغيرةُ بن شُعبة بن أبي عامر بن مسعود بن مُعتِّب بن مالك بن كعب بن عَمرو بن سَعْد بن عَوف بن ثَقِيف - واسمه قَسِيٌّ - بن مُنبِّه بن بكر بن هوازِنَ بن منصور بن عِكْرمة بن خَصَفة بن قَيْس بن عَيْلان بن مُضَرَ بن نِزارٍ، وكان يُكنى أبا عبد الله، وكان يُقال له: مغيرةُ الرأي، وكان داهيةً، لا يَشْتَجِرُ في صدره أمرانِ إلَّا وَجَدَ في أحدهما مخرجًا، قَدِمَ على رسولِ الله ﷺ فأسلَمَ، وأقام معه حتى اعتَمَر عُمرةَ الحُدَيْبيَة في ذي القَعْدة سنةَ ستٍّ من الهجرة، قال المغيرة: فكانت أولَ سَفْرةٍ خرجتُ معه فيها، وكنتُ أكونُ مع أبي بكر الصِّدِّيق، وألْزَمُ النبيَّ ﷺ فيمن يَلزَمُه وشَهِدَ المُغيرةُ بعد ذلك المَشاهِدَ مع رسولِ الله ﷺ، وقَدِمَ وفدُ ثَقيفٍ فأنزلَهم عليه وأكرَمَهم، وبعثَه رسول الله ﷺ وأبا سُفْيانَ بنَ حَرْب إلى الطائف، فهَدَمُوا (1) الرَّبَّة.
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا نسب مغیرہ بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن ثقیف ہے، اور ثقیف کا اصل نام قسی بن منبہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر بن نزار ہے، ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور انہیں ”مغیرہ الرائے“ (صائب رائے والا) کہا جاتا تھا، وہ انتہائی ذہین و فطین اور صاحبِ تدبیر تھے، ان کے سامنے جب بھی دو پیچیدہ معاملات آتے تو وہ ان میں سے کسی ایک میں کامیابی کا راستہ ضرور نکال لیتے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہی مقیم رہے یہاں تک کہ ذوالقعدہ سن 6 ہجری میں عمرہ حدبیہ میں شریک ہوئے، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ پہلا سفر تھا جس میں میں آپ ﷺ کے ہمراہ نکلا، میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا کرتا تھا اور نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں رہنے والے خاص صحابہ میں شامل تھا، اس کے بعد سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک رہے، جب بنو ثقیف کا وفد بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے انہیں ان کے ہاں ٹھہرایا اور ان کی بھرپور مہمان نوازی کی، بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے انہیں اور سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو طائف روانہ فرمایا تو انہوں نے وہاں جا کر ”الربہ“ (نامی بت) کو منہدم کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "فہزموا" (پس وہ شکست کھا گئے) تحریف ہو کر آ گیا ہے۔ درست متن "طبقات ابن سعد" (5/ 175) اور "تاریخ دمشق" (60/ 15) سے لیا گیا ہے۔
والرَّبَّة: هي اللّات، وهي صخرةٌ كانت تعبدها ثقيف بالطائف. وقد تحرَّفت في (ز) إلى: الدبير، وفي (ص) إلى الوية، وفي (م) إلى ألف به، والمثبت على الصواب من هامش (ز).
نوٹ / توضیح: "الرَّبَّة": اس سے مراد لات ہے، جو ایک چٹان تھی جسے ثقیف طائف میں پوجتے تھے۔ نسخہ (ز) میں یہ تحریف ہو کر "الدبیر"، (ص) میں "الویہ" اور (م) میں "الف بہ" بن گیا ہے۔ درست متن (ز) کے حاشیہ سے لیا گیا ہے۔