المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ الْمُغِيرَةُ مِنْ أَهْلِ الرَّأْيِ باب: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اہلِ رائے میں شمار ہوتے تھے
حدثنا أبو أحمد إسحاق بن محمد الهاشمي بالكُوفة، حدثنا الحُسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا يونس بن الحارث الطائفي، حدثني أبو عَون الثَّقَفي، عن أبيه، عن المغيرة بن شعبة، قال: لما تُوفِّي رسولُ الله ﷺ بَعثَني أبو بكر الصِّدِّيق إلى أهل النُّجَير، ثم شهدت اليمامةَ، ثم شهدتُ فُتوحَ الشام مع المسلمين، ثم شهدتُ اليرموكَ فأُصيبت عَيني يومَ اليَرمُوك، ثم شهدتُ القادسيّةَ وكنتُ رسولَ سعدٍ إلى رُستُمَ، ووَلِيتُ لِعمر بن الخطب فُتوحًا، وفَتحتُ هَمَذانَ، وشهدتُ نَهاوَنْدَ، وكنتُ على مَيسرةِ النُّعمان بن مُقَرِّن، وكان عمرُ قد كَتَب: إن هَلَك النعمانُ فالأميرُ حذيفةُ، وإن هَلَك فالأمير المُغيرةُ، وكنت أولَ مَن وَضَعَ ديوانَ البصرة، وجمعتُ الناسَ ليُعطَوا، ووَلِيتُ الكوفةَ لعمر بن الخطاب، وقتل عمرُ وأنا عليها، ثم وَلِيتُها لمعاوية (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5890 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے اہل نجیر کی سرکوبی کے لیے بھیجا، پھر میں جنگ یمامہ میں شریک ہوا، اس کے بعد مسلمانوں کے ہمراہ فتوحاتِ شام کا حصہ رہا، پھر میں جنگ یرموک میں حاضر ہوا اور اسی دن میری ایک آنکھ زخمی (ضائع) ہو گئی، پھر میں معرکہ قادسیہ میں شریک ہوا اور رستم کی طرف سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا قاصد بن کر گیا، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کئی فتوحات حاصل کیں، ہمدان کو فتح کیا اور جنگ نہاوند میں بھی شامل رہا، میں نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے لشکر کے میسرہ (بائیں دستے) کا کمانڈر تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم نامہ لکھا تھا کہ اگر نعمان شہید ہو جائیں تو حذیفہ امیر ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو مغیرہ امیر ہوں گے، میں وہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ کا دیوان (سرکاری رجسٹر اور انتظامیہ) قائم کیا اور لوگوں کو جمع کیا تاکہ انہیں وظائف دیے جائیں، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی جانب سے کوفہ کا گورنر مقرر تھا اور جب ان کی شہادت ہوئی تب بھی میں اسی عہدے پر فائز تھا، پھر میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی کوفہ کا گورنر رہا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس سند میں یونس بن حارث الطائفی کی وجہ سے کمزوری (لین) ہے۔ لیکن محمد بن عمر الواقدی نے یہ خبر اپنے شیوخ کی جماعت سے "طبقات ابن سعد" (5/ 173 اور 177) میں روایت کی ہے۔ ان کی تمام روایات "مرسل" ہیں، لیکن ان کے جمع ہونے سے خبر قوی ہو جاتی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو عون الثقفی سے مراد محمد بن عبیداللہ بن سعید، اور ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین ہیں۔
وشهود المغيرة للقادسية وخبره مع رُستم سيأتي برقم (6013) بإسناد حسن.
نوٹ / توضیح: مغیرہ کی قادسیہ میں شرکت اور رستم کے ساتھ ان کی خبر نمبر (6013) پر "حسن سند" کے ساتھ آئے گی۔