حدیث نمبر: 5998
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: وسفيان بن عَوف الغامِدِيّ من أهل حِمْص، صَحِبَ رسولَ الله ﷺ، وكان له بأسٌ ونَجْدةٌ وسَخَاءٌ، وهو الذي أغارَ على هِيتٍ والأَنبارِ في أيام عليٍّ، فقَتَل وسَبَى، وكان ممَّن قتلَ حسانُ بنُ حسّانَ البَكْرِيُّ، أخا (2) الحارث بن حسّان الوافدِ على النبي ﷺ مع قَيْلةَ بنت مَخْرَمة، فخطب عليٌّ ﵁، وقال في خُطْبته: إِنَّ أَخا عَامِدٍ قد أَغارَ على هِيتٍ والأنبار. وكان على الصَّوائف في أيام معاوية، وكان معاويةُ يُعظَّم أمرَه، وقيل: إنه كان يَحمِل في المجلسِ الواحد على ألفِ قارِحٍ، واستعمل معاويةُ بعده على الصوائف ابنَ مسعود الفَزَاري فقيل: أَقِمْ يا ابنَ مَسْعُودٍ قَناةً صَلِيبةً … كما كان سفيانُ بنُ عوفٍ يُقِيمُها وسُمْ يا ابنَ مَسْعُودٍ مَدائِنَ قَيصَرٍ … كما كان سفيانُ بنُ عُوفٍ يَسُومُها وسفيانُ قَرْمٌ من قُرُومِ قَبيلةٍ … تَضِيمُ وَمَا فِي النَّاسِ حَيٌّ يَضِيمُها ذكرُ مناقب المُغِيرة بن شُعْبة ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سفیان بن عوف غامدی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا ذکر: ان کا تعلق حمص سے تھا اور وہ صحابیِ رسول تھے، وہ انتہائی بہادر، نڈر اور سخی انسان تھے، انہوں نے ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہیت اور انبار کے مقامات پر حملہ کیا تھا، جس میں قتل و غارت اور قید کے واقعات ہوئے، ان کے ہاتھوں مقتول ہونے والوں میں حسان بن حسان البکری بھی شامل تھے جو حارث بن حسان کے بھائی تھے، اس واقعے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”قبیلہ غامد کے بھائی (سفیان) نے ہیت اور انبار پر دھاوا بول دیا ہے۔“ سفیان بن عوف، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں گرمائی مہمات (صوائف) کے انچارج تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی بہت قدر کرتے تھے، کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی مجلس میں ایک ہزار گھوڑوں کا عطیہ دے دیتے تھے، ان کے بعد جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود فزاری کو ان مہمات کا نگران بنایا تو (شعراء نے) کہا: ”اے ابن مسعود! تم بھی اسی طرح مضبوطی سے محاذ سنبھالو جیسے سفیان بن عوف سنبھالتے تھے، اور قیصر کے شہروں کو اسی طرح پامال کرو جیسے سفیان بن عوف کیا کرتے تھے، سفیان تو اس قبیلے کے سردار تھے جو دوسروں پر غالب رہتا ہے اور لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جو انہیں دبا سکے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5998
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5998] [ترقيم الشركة 5939]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) نصبها على تقدير فعل، كقوله: أعني.
نوٹ / توضیح: (لفظ "صاحب") کو فعل مقدر مان کر نصب دیا گیا ہے، جیسے کہا جائے: "أعني صاحب..." (یعنی میری مراد صاحب... ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5998 سے ماخوذ ہے۔