المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 5997
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا حامد بن سَهْل الثَّغْرِي، حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، عن شُعبة، عن عُيَينة بن عبد الرحمن، عن أبيه: أنه كان في جِنازة عُثمانَ بن أبي العاص، قال: فكُنّا نمشي مَشْيًا خفيفًا، قال: فرفع أبو بَكْرةَ سَوْطَه، وقال: لقد رأيتُنا مع رسول الله ﷺ نَرمُل رَمَلًا (1). ذكرُ مناقب سفيان بن عَوف الغامِدي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5884 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
عیینہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم (جنازے کے ساتھ) آہستہ آہستہ چل رہے تھے تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا کوڑا اٹھایا اور فرمایا: ”میں نے خود کو دیکھا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (جنازہ لے کر) بہت تیز چلا کرتے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، لكن خالف فيه شعبةُ سائرَ أصحاب عُيَينة بن عبد الرحمن ممّن تقدَّم ذكرهم برقم (5990)، حيث ذكروا أنَّ الجنازة كانت لعبد الرحمن بن سَمْرة، وليس لعثمان بن أبي العاص.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں شعبہ نے عیینہ بن عبدالرحمن کے باقی شاگردوں کی مخالفت کی ہے جن کا ذکر نمبر (5990) پر گزر چکا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا تھا کہ جنازہ عبدالرحمن بن سمرہ کا تھا، نہ کہ عثمان بن ابی العاص کا۔
وأخرجه أبو داود (3182) عن مسلم بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (3182) نے مسلم بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، لیکن اس میں شعبہ نے عیینہ بن عبدالرحمن کے باقی شاگردوں کی مخالفت کی ہے جن کا ذکر نمبر (5990) پر گزر چکا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا تھا کہ جنازہ عبدالرحمن بن سمرہ کا تھا، نہ کہ عثمان بن ابی العاص کا۔
وأخرجه أبو داود (3182) عن مسلم بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (3182) نے مسلم بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5997 سے ماخوذ ہے۔