حدیث نمبر: 598
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أَبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهْدي، حَدَّثَنَا يحيى بن الوليد، حدَّثني مُحِلُّ بن خَليفة الطائي، حدَّثني أبو السَّمْح قال: كنت خادمَ النَّبِي ﷺ، فجيءَ بالحسن أو الحسين فبالَ على صدره، فأرادوا أن يَغسِلوه، فقال: "رُشُّوه رشًّا، فإنه يُغسَلُ بولُ الجارية، ويُرَشُّ بولُ الغلام" (1). قد خرَّج الشيخان في بول الصبي حديثَ عائشة وأم قيس بنت مِحصَن: أنَّ النَّبِيّ ﷺ أمرَ بماءٍ فصُبَّ على بول الصبي (2)، فأما ذِكرُ بول الصبيَّة فإنهما لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 589 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

ابوالسمح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کا خادم تھا، سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگ اسے دھونے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر صرف پانی چھڑک دو، کیونکہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔“
شیخین نے لڑکے کے پیشاب پر پانی بہانے کا ذکر تو کیا ہے لیکن لڑکی کے پیشاب کے فرق کا تذکرہ ان کی روایات میں نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 598
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد من أجل يحيى بن الوليد: وهو الطائي» [ترقيم الرساله 598] [ترقيم الشركة 593] [ترقيم العلميه 589]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد من أجل يحيى بن الوليد: وهو الطائي.
درجۂ حدیث: یحییٰ بن الولید الطائی کی وجہ سے اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔
وأخرجه أبو داود (376)، وابن ماجه (526)، والنسائي (289) من طرق عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (376)، ابن ماجہ (526) اور نسائی (289) نے عبدالرحمن بن مہدی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) حديث عائشة عند البخاريّ برقم (222) ومسلم (286)، وحديث أمّ قيس عند البخاريّ برقم (223) ومسلم (287).
حوالہ / مصدر: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بخاری (222) اور مسلم (286) میں ہے، جبکہ ام قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بخاری (223) اور مسلم (287) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 598 سے ماخوذ ہے۔