حدیث نمبر: 597
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أَسَد بن موسى، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص، عن سِمَاك بن حرب، عن قابوس بن أبي المُخارِق، عن لُبابةَ بنت الحارث قالت: بالَ الحسينُ في حَجْرِ النَّبِيّ ﷺ، فقلت: هاتِ ثوبَك حتَّى أغسِلَه، فقال: "إنما يُغسَلُ بولُ الأنثى، ويُنضَحُ بولُ الذَّكر" (2). والشاهد الثاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 588 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا، میں نے عرض کیا: اپنا کپڑا دیں تاکہ میں اسے دھو دوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 597
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وقد اختُلف في إسناده على سماك بن حرب كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 44/ (26875)» [ترقيم الرساله 597] [ترقيم الشركة 592] [ترقيم العلميه 588]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وقد اختُلف في إسناده على سماك بن حرب كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 44/ (26875).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس کی سند میں سماک بن حرب پر اختلاف ہوا ہے جیسا کہ "مسند احمد" (44/ 26875) کے حواشی میں تفصیل موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (375)، وابن ماجه (522) من طرق عن أبي الأحوص سلّام بن سليم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (375) اور ابن ماجہ (522) نے ابوالاحوص سلام بن سلیم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (26875) من طريق إسرائيل، عن سماك بن حرب، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (26875) میں اسرائیل بن یونس عن سماک بن حرب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (26877) من طريق أبي عياض، و (26878) من طريق عبد الله بن الحارث، كلاهما عن أمُّ الفضل - وهي لبابة بنت الحارث.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ابوعیاض (26877) اور عبداللہ بن الحارث (26878) کے واسطوں سے ام الفضل (لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه برقم (4889) من حديث ابن عباس عن أمِّ الفضل.
نوٹ / توضیح: اسی طرح کی روایت آگے نمبر (4889) پر حضرت ابن عباس عن ام الفضل کے واسطے سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 597 سے ماخوذ ہے۔