حدیث نمبر: 5927
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوْري [يقول: سمعت يحيى بن مَعِين] (2) يقول: يُروى عن عبد الله بن مالك بن بُحَينةَ عن أبيه هكذا يَرويه عن إبراهيمُ بنث سعد، وهو خطأٌ، ليس يَروي أبوه عن النبيِّ ﷺ، إنما عبدُ الله الذي رأى النبيِّ ﷺ، وبُحَينةُ أمُّه.
حافظ طلحہ بابر

یحییٰ بن معین سے مروی ہے کہ بعض راوی عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے کیونکہ ان کے والد نے نبی کریم ﷺ سے روایت نہیں کی، بلکہ وہ عبداللہ ہی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی تھی، اور بحینہ ان کی والدہ کا نام ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5927
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5927] [ترقيم الشركة 5869]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) سقط اسم يحيى بن معين من النسخ الخطية، واستدركناه من "تاريخ الدوري" (630) حيث نصَّ على أنه سمع يحيى بن معين يقول ذلك في ابن بُحينة.
نوٹ / توضیح: یحییٰ بن معین کا نام قلمی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے ہم نے "تاریخ الدوری" (630) سے مکمل کیا ہے، جہاں تصریح ہے کہ انہوں نے یحییٰ بن معین کو ابن بحینہ کے بارے میں ایسا کہتے سنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5927 سے ماخوذ ہے۔