حدیث نمبر: 5923
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خَيّاط، قال: عثمان بن طلحة بن بن أبي طلحة بن عبد العُزَّى بن عثمان بن عبد الدار، وأمُّه بنت سَعْد (1) بن شُهَيد (2) من بني عَمرو بن عوف من أهل قُباءٍ، وكان إسلامُه وإسلامُ عمرو بن العاص وخالد بن الوليد في وقتٍ واحد، وتُوفي بمكةَ سنة ثِنتين (3) وأربعينَ.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدار رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ ان کی والدہ اہل قباء میں سے بنو عمرو بن عوف کی بیٹی سعد (یا سلافہ) تھیں، آپ کا اسلام لانا سیدنا عمرو بن العاص اور سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہوا تھا، اور آپ کی وفات مکہ مکرمہ میں سن 42 ہجری میں ہوئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5923
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5923] [ترقيم الشركة 5865]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: سعيد، والتصويب من كتب الأنساب والتاريخ والتراجم، انظر "سيرة ابن هشام" 2/ 62 و 171، و "طبقات ابن سعد" 2/ 52 و 5/ 15، و "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 252، وغيرهم.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سعید" بن گیا ہے۔ درست نام کتبِ انساب، تاریخ اور تراجم سے لیا گیا ہے۔ دیکھیں: "سیرت ابن ہشام" (2/ 62 اور 171)، "طبقات ابن سعد" (2/ 52 اور 5/ 15) اور مصعب الزبیری کی "نسب قریش" (ص 252) وغیرہ۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى سمية، وفي (ص) و (م) إلى حمنة، والتصويب من كتب المشتبه وكتب الأنساب والتراجم. انظر "المؤتلف والمختلف" للدارقطني 3/ 1427 و "الإكمال" لابن ماكولا 5/ 90، وغيرها.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں تحریف ہو کر "سمیہ" اور (ص) و (م) میں "حمنہ" بن گیا ہے۔ درست نام مشتبہ ناموں کی کتب، انساب اور تراجم سے لیا گیا ہے۔ دیکھیں: دارقطنی کی "المؤتلف والمختلف" (3/ 1427) اور ابن ماکولا کی "الاکمال" (5/ 90) وغیرہ۔
(3) وقع في نُسخنا الخطية: ثلاث، وهو خطأ، والمثبت على الصواب كما كان في (ز) ثم ضرب عليها الناسخُ مع أنها هي الصواب الموافق لما في "طبقات خليفة" ص 14.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "تین" (ثلاث) لکھا ہے جو غلط ہے۔ صحیح متن وہ ہے جو (ز) میں پہلے تھا پھر کاتب نے اسے کاٹ دیا، حالانکہ وہی درست تھا اور "طبقات خلیفہ" (ص 14) کے موافق تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5923 سے ماخوذ ہے۔