حدیث نمبر: 5924
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري قال: ومن بني عبد الدار بن قُصَيّ؛ فذَكَر هذا النَّسَب، وأمه سُلَافة بنت سعْد (4) من بني عَمرو بن عَوف من أهل قُباءٍ، وكان إسلامُه قبلَ الفتحِ مع إسلام عَمرو بن العاص وخالد بن الوليد، وقَدِمَ المدينةَ في صَفَر سنة ثمانٍ من الهجرة، ومات بمكة سنة اثنتين وأربعين حين قام معاوية.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب کے متعلق مروی ہے کہ ان کی والدہ سلافہ بنت سعد تھیں، آپ کا اسلام لانا فتح مکہ سے قبل سیدنا عمرو بن العاص اور سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہم کے ایمان لانے کے وقت ہوا تھا، آپ صفر سن 8 ہجری میں مدینہ منورہ تشریف لائے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں سن 42 ہجری میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5924
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5924] [ترقيم الشركة 5866]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) وقع اسم أم عثمان بن طلحة في نسخنا الخطية: أم سلامة بنت سعيد، هكذا بزيادة أداة الكنية، وبالميم من سلامة، وبزيادة الياء في اسم أبيها، وفي هذا خطأٌ وتحريفٌ صوَّبناه من "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 252، وفاقًا لسائر مصادر النسب والتراجم والتاريخ. انظر "مغازي الواقدي" 1/ 202 و 228 و 356، و "سيرة ابن هشام" 1/ 525 و 2/ 62، و"طبقات ابن سعد" 2/ 52 و 3/ 428.
نوٹ / توضیح: ہمارے نسخوں میں عثمان بن طلحة کی والدہ کا نام "ام سلامہ بنت سعید" لکھا ہے (کنیت کے اضافے، سلامہ میں میم، اور والد کے نام میں یاء کے اضافے کے ساتھ)۔ یہ غلطی اور تحریف ہے جسے ہم نے مصعب الزبیری کی "نسب قریش" (ص 252) اور دیگر انساب، تراجم اور تاریخ کے مصادر سے درست کیا ہے۔ دیکھیں: "مغازي الواقدي" (1/ 202، 228 اور 356)، "سیرت ابن ہشام" (1/ 525 اور 2/ 62) اور "طبقات ابن سعد" (2/ 52 اور 3/ 428)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5924 سے ماخوذ ہے۔