المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يُرَوَّعَ الْمُؤْمِنُ وَأَنْ يُؤْخَذَ مَتَاعُهُ لَاعِبًا وَجَدًّا باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کو ڈرانے اور اس کا سامان مذاق یا سنجیدگی میں لینے سے منع فرمایا
قال ابن عُمر: وكان زيدُ بن ثابت يَكتُب الكِتابَين جميعًا: كتابَ العربية وكتابَ العِبْرانية، وأولُ مَشهدٍ شَهِدَه زيدُ بن ثابت مع رسول الله ﷺ الخَندقُ، وهو ابن خمس عشرة سنة، وكان فيمن يَنقُل الترابَ يومئذٍ مع المسلمين، فقال رسول الله ﷺ: "أما إنه نِعْمَ الغلامُ" وغلبتْه عَيناهُ يومئذٍ، فرقَدَ، فجاء عُمارةُ بن حَزْم، فأخذ سلاحَه وهو لا يَشعُر، فقال له رسولُ الله ﷺ: "يا أبا رُقَادٍ، نِمتَ حتى ذهب سِلاحُك" ثم قال رسولُ الله: "مَن له عِلمٌ بسِلاح هذا الغُلام؟ "، فقال عُمارة بن حَزْم: أنا يا رسول الله أخذتُه فرَدَّه، فنهى رسولُ الله ﷺ أن يُروَّعَ المؤمنُ، وأن يُؤخذَ متاعُه لاعِبًا وجِدًّا. وكانت رايةُ بني مالك بن النَّجّار في تَبُوك مع عُمارة بن حَزْم فأدركَه رسولُ الله ﷺ فأخذَها منه، فدفعَها إلى زيد بن ثابت، فقال عُمارةُ: يا رسولَ الله، بَلَغَك عني شيءٌ؟ قال: "لا، ولكن القُرآنَ يُقدَّم، وكان زيدٌ أكثرَ أخْذًا منك للقُرآن" (1)
ابن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عربی اور عبرانی دونوں تحریریں لکھ لیا کرتے تھے، اور پہلا غزوہ جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی وہ غزوہ خندق تھا جبکہ ان کی عمر پندرہ سال تھی، وہ اس دن مسلمانوں کے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتنا ہی اچھا لڑکا ہے۔“ اس دن ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے تو عمارہ بن حزم آئے اور ان کا اسلحہ اٹھا لیا جبکہ انہیں خبر نہ ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے بہت سونے والے (ابو رقاد)! تم سوئے رہے یہاں تک کہ تمہارا اسلحہ چلا گیا“، پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس لڑکے کے اسلحہ کے بارے میں کسی کو علم ہے؟“ عمارہ بن حزم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میرے پاس ہے، پھر انہوں نے وہ واپس کر دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے کسی مومن کو ڈرانے اور مذاق یا سنجیدگی میں اس کا سامان لینے سے منع فرمایا۔ غزوہ تبوک میں بنو مالک بن نجار کا جھنڈا عمارہ بن حزم کے پاس تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان سے لے کر زید بن ثابت کو دے دیا، عمارہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری کوئی شکایت ملی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن قرآن کو مقدم رکھا جائے گا اور زید نے تم سے زیادہ قرآن حاصل کیا ہے۔“