حدیث نمبر: 5839
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهَاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبيه وعبد الله بن جعفر، عن ابن أبي عَون، وسعد بن إبراهيم ومحمد بن صالح، عن عاصم بن عمر، في مُؤاخاةِ رسولِ الله ﷺ بين المهاجرين والأنصار من بني هاشم: عليُّ بن أبي طالب وسَهْل بن حُنيف ﵄ (1).
حافظ طلحہ بابر

عاصم بن عمر سے ان صحابہ کے متعلق روایت ہے جن کے درمیان رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں سے بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، وہ بنو ہاشم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5839
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5839] [ترقيم الشركة 5785]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 21 عن محمد بن عمر - وهو الواقدي - بالأسانيد الثلاثة.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 21) میں محمد بن عمر الواقدی سے تینوں اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد ذكر ابن إسحاق ما يخالف هذا في شأن المؤاخاة، وأنَّ المؤاخاة كانت بين النبي ﷺ وبين علي بن أبي طالب كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 505، وأنَّ رسول الله ﷺ أخذ بيد علي بن أبي طالب، فقال: هذا أخي.
اہم نکتہ: ابن اسحاق نے مواخات (بھائی چارے) کے بارے میں اس کے خلاف بات ذکر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مواخات خود نبی ﷺ اور علی بن ابی طالب کے درمیان ہوئی تھی، جیسا کہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 505) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: "یہ میرا بھائی ہے۔"
وفي حديث علي بن أبي طالب الذي تقدَّم برقم (4685) قال: والله إني لأخُوه ووليُّه وابن عمّه. وإسناده فيه لِينٌ.
حوالہ / مصدر: اور علی بن ابی طالب کی حدیث جو پیچھے نمبر (4685) پر گزر چکی ہے، اس میں انہوں نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں ان (نبی ﷺ) کا بھائی، ولی اور چچا زاد ہوں۔" اس کی سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5839 سے ماخوذ ہے۔