حدیث نمبر: 5824
أخبرَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن أُسَير بن جابر، قال: كان أمير المؤمنين عمر بن الخطاب إذا أتت عليه أمدادُ اليمن سألَهم: أفيكُم أُويسُ بن عامر؟ حتى أتى عليه أويسٌ، فقال: أنت أويسُ بن عامر، قال نعم، قال: مِن مراد ثم قَرَنٍ؟ قال: نعم، قال: كان بك بَرَضٌ فَبَرَأتَ منه إلَّا موضعَ درهم، قال: نعم، قال: ألك والدةٌ؟ قال: نعم، فقال عمر: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ اليمَن، من مُراد ثم من فَرَن، كان به بَرَص فبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأَبَرّه، فإن استطعتَ أن يَستغفرَ لك فافعلْ"، قال: فاستغفرْ لي، فاستغفَرَ له، ثم قال عمر: أين تريدُ؟ قال: الكوفةَ، قال: ألا أكتُبُ لك إلى عُمّالها فيستَوصُوا بك خيرًا؟ فقال: لأَن أكونَ في غَبْراءِ الناس أحبُّ إليَّ. فلما كان في العام المُقبل حجّ رجلٌ من أشرافِهم، فسأل عمرُ عن أُويس، كيف تركْتَه؟ فقال: تركتُه رثَّ البيت، قليلَ المَتاع، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ أهل اليمن، من مُراد ثم من قَرَن، كان به بَرَصٌ فَبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأبَرَّه، فإن استطعتَ أن يستغِفَر لك فافعلْ"، فلما قدم الرجلُ أتى أُويسًا، فقال: استغِفرْ لي، فقال: أنتَ أحدثُ الناس بسفرٍ صالح، فاستغفِرْ لي، فقال: لقيتَ عمرَ بن الخطاب؟ فقال: نعم، قال: فاستغَفَر له، قال: ففَطِنَ له الناسُ، فانطلقَ على وجهه. قال أُسَيرٌ: فَكَسَوتُه بُردًا، فكان إذا رآه عليه إنسانٌ قال: مِن أين لأُويسٍ هذا؟ (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5719 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

اسیر بن جابر سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن سے امدادی دستے آتے تو وہ ان سے دریافت فرماتے: ”کیا تمہارے درمیان اویس بن عامر موجود ہیں؟“ یہاں تک کہ (ایک بار) اویس خود ان کے پاس آ گئے، آپ نے پوچھا: کیا تم اویس بن عامر ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: قبیلہ مراد اور پھر اس کی شاخ قرن سے تعلق ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تمہیں برص (سفید داغ) کی بیماری تھی جو ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ باقی سب ٹھیک ہو گئی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تمہاری والدہ بقیدِ حیات ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے پاس اہل یمن کے امدادی دستوں کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے، جن کا تعلق مراد اور پھر قرن سے ہوگا، انہیں برص کی بیماری تھی جو ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ باقی شفایاب ہو گئی، ان کی ایک والدہ ہیں جن کے وہ نہایت خدمت گزار ہیں، وہ اگر اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم ضرور پوری فرما دے، پس اگر تم سے ہو سکے کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کریں تو ضرور ایسا کرنا“، (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پس میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: کوفہ کا، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہارے لیے وہاں کے حکام کے نام سفارشی خط نہ لکھ دوں کہ وہ تمہارے ساتھ بہتر سلوک کریں؟ انہوں نے عرض کیا: ”گمنام اور عام لوگوں میں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے“، پھر جب اگلا سال آیا تو کوفہ کے اشراف میں سے ایک شخص نے حج کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کے بارے میں دریافت فرمایا کہ تم نے انہیں کس حال میں چھوڑا؟ اس نے عرض کیا: میں نے انہیں اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر کی حالت ابتر اور سامانِ زندگی نہایت مختصر تھا، تب آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے پاس اہل یمن کے امدادی دستوں کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے... (وہی الفاظ دہرائے)“، چنانچہ جب وہ شخص (حج سے) واپس پہنچا تو سیدنا اویس کے پاس آیا اور کہا: میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، اویس نے فرمایا: تم ابھی ایک نیک سفر سے ہو کر آئے ہو، تم میرے لیے دعا کرو، اس نے پھر اصرار کیا تو اویس نے پوچھا: کیا تم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تب اویس نے اس کے لیے دعائے مغفرت کی، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں کو ان کی عظمت کا علم ہو گیا تو وہ وہاں سے (گمنامی کی خاطر) کہیں اور نکل گئے، اسیر کہتے ہیں: میں نے انہیں ایک چادر (برد) پہنائی تھی، جب بھی کوئی شخص انہیں وہ چادر پہنے دیکھتا تو (حیرت سے) کہتا: اویس کے پاس یہ قیمتی چادر کہاں سے آئی؟
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا!

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5824
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،هشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي. وأخرجه مسلم (2542) (225) من طرق عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.» [ترقيم الرساله 5824] [ترقيم الشركة 5770] [ترقيم العلميه 5719]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. هشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي. وأخرجه مسلم (2542) (225) من طرق عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہشام سے مراد ابن ابی عبداللہ الدستوائی ہیں۔ اسے مسلم (2542/ 225) نے معاذ بن ہشام کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: لہٰذا حاکم کا اس حدیث کا استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے (کیونکہ یہ تو مسلم میں موجود ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5824 سے ماخوذ ہے۔