حدیث نمبر: 578
حدَّثَناه أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني ببُخارَى، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة إملاءً من كتابه سنة ست وتسعين ومئتين، حدثنا أبو بَكْرة بكَّار بن قُتيبة قاضي الفُسْطاط، حدثنا أبو عاصم الضحاك بن مَخلَد، عن قُرَّة بن خالد، عن محمد بن سِيرين، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "طُهورُ إناءِ أحدِكم إذا وَلَغَ فيه الكلبُ أن يُغسَلَ سبعَ مراتٍ، الأُولى بالتراب، والهِرُّ مثلُ ذلك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، فإنَّ أبا بكرة ثقة مأمون، ومن توهَّم أنَّ أبا بكرة ينفرد به عن أبي عاصم فهو وهمٌ، فقد حدَّث به غيرُه عن أبي عاصم، وإنما تفرَّد به أبو عاصم، وهو حُجَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 569 - على شرطيهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے برتن کی پاکیزگی جب اس میں کتا منہ ڈال دے یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے، جن میں سے پہلی بار مٹی سے ہو، اور بلی کا حکم بھی اسی طرح ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری و امام مسلم کی شرط پر ہے، اور راوی ابوبکرہ ثقہ و مامون ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إلّا أنَّ ذكر الهرِّ فيه مرفوعًا شاذٌّ تفرَّد به أبو عاصم عن قرة كما سيذكر المصنف، والصواب أنه موقوف من قول أبي هريرة، وقوله في هذا الحديث خاصة: "والهر مثل ذلك" شاذٌ أيضًا، فقد خالف محمدَ بنَ إسحاق فيه أبو جعفر الطحاوي في كتابه "شرح معاني الآثار" 1/ ...» [ترقيم الرساله 578] [ترقيم الشركة 573] [ترقيم العلميه 569]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، إلّا أنَّ ذكر الهرِّ فيه مرفوعًا شاذٌّ تفرَّد به أبو عاصم عن قرة كما سيذكر المصنف، والصواب أنه موقوف من قول أبي هريرة، وقوله في هذا الحديث خاصة: "والهر مثل ذلك" شاذٌ أيضًا، فقد خالف محمدَ بنَ إسحاق فيه أبو جعفر الطحاوي في كتابه "شرح معاني الآثار" 1/ 19 فرواه عن أبي بكرة بكار بن قتيبة بهذا الإسناد بلفظ: "طهور الإناء إذا ولَغَ فيه الهرُّ أن يغسل مرة أو مرتين"، وكذلك قال أبو بكر النيسابوري عن بكار بن قتيبة كما في الرواية التالية عند المصنف.
درجۂ حدیث: اس کی سند بظاہر صحیح ہے مگر بلی کا ذکر "مرفوعاً" کرنا "شاذ" ہے جس میں ابوعاصم الضحاک بن مخلد تنہا ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ کا اپنا قول (موقوف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس حدیث میں جملہ "بلی کا بھی یہی حکم ہے" شاذ ہے؛ امام طحاوی نے (1/ 19) میں بکار بن قتیبہ کے واسطے سے اس کے الفاظ "ایک یا دو بار دھونا" نقل کیے ہیں، جیسا کہ ابوبکر نیسابوری نے بھی بیان کیا۔
وقال البيهقي في "السنن" 1/ 247: وأبو عاصم الضحاك بن مخلد ثقة إلّا أنه أخطأ في إدراج قول أبي هريرة في الهرة في الحديث المرفوع في الكلب.
فنی نکتہ / علّت: امام بیہقی (السنن 1/ 247) فرماتے ہیں کہ ابوعاصم ثقہ راوی ہیں مگر ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے بلی سے متعلق ابوہریرہ کے موقوف قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج (ادراج) کر دیا۔
وقال في "معرفة السنن والآثار" (1783 - 1786): أما حديث محمد بن سيرين عن أبي هريرة: "إذا ولغ الهر غُسل مرة" فقد أدرجه بعض الرواة في حديثه عن النبي ﷺ في ولوغ الكلب ووهموا فيه، والصحيح أنه في ولوغ الكلب مرفوع وفي ولوغ الهر موقوف ميَّزه علي بن نصر الجهضمي عن قرة بن خالد عن ابن سيرين عن أبي هريرة، ووافقه عليه جماعة من الثقات.
فنی نکتہ / علّت: بیہقی نے "المعرفہ" میں وضاحت کی ہے کہ محمد بن سیرین کی روایت کہ "بلی برتن چاٹ لے تو ایک بار دھویا جائے" کو بعض راویوں نے وہم کی بنا پر کتے والی مرفوع حدیث کے ساتھ ملا دیا، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ کتے والی بات مرفوع ہے اور بلی والی بات حضرت ابوہریرہ کا موقوف قول ہے۔ علی بن نصر الجہضمی اور دیگر ثقات نے اسی فرق کو واضح کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 578 سے ماخوذ ہے۔