حدیث نمبر: 5779
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجَوّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهيل، عن أبيه، عن عِمْران بن أبي الجَعْد، عن الأشتَر، قال: ابتدأَنا خالدُ بنُ الوليد من غير أن أَسألَه، قال: ما أتى عليَّ يومٌ قطُّ كان أعظمَ علَيَّ من شَأْن عمّار، لما كان يومُ بَعثَني رسولُ الله ﷺ في أُناس من أصحابِه وأَمَّرني عليهم، وكان في القوم عمارٌ، فأصبْنا قومًا فيهم أهلُ بيتٍ من المسلمين، فكلَّمَني فيهم عمارٌ وناسٌ من المسلمين، قالوا: خَلِّ سبيلَهم، قلتُ: لا واللهِ لا أفعَلُ حتى يَراهُم رسولُ الله ﷺ؛ فيَرى فيهم رأيَه، فغَضِب عليَّ عمارٌ، فلما قدمتُ استأذنتُ على رسولِ الله ﷺ، فهو يَستخبِرُني وأنا أُحدِّثُه، فاستأذَن عمارٌ فأَذِن له، فدخل عمارٌ، فقال: يا رسول الله، ألم ترَ خالدًا فَعَل وفَعَل، فقلتُ: يا رسول الله، أما والله لولا مَجلِسُك ما سبَّني ابن سُميّة، فقال رسول الله ﷺ: "يا عمارُ، اخرُجْ" فخرج عمارٌ وهو يَبكي ويقول: ما نَصَرني رسولُ الله ﷺ على خالدٍ، فقال لي رسولُ الله ﷺ: "ألا أجبْتَ الرجُلَ؟! " قلت: ما مَنعَني أن أُجِيبَه إلَّا مَحقَرتُه، فغَضِبَ رسول الله ﷺ، فقال: "إنه مَن يُبغِضُ عمارًا يُبغِضُه اللهُ، ومن يَسُبُّ عمارًا يسُبُّه اللهُ، ومن يَحقِرُ عمارًا يَحقِرُه اللهُ"، فخرجتُ من عندِ رسول الله ﷺ، فلم أزَل أطلُبُ إلى عمارٍ، حتى استغفَرَ لي (1).
حافظ طلحہ بابر

اشتر سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھ سے (پوچھے بغیر ہی) بیان کیا کہ میرے لیے کبھی کوئی دن عمار کے معاملے سے بڑھ کر گراں نہیں گزرا جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے چند صحابہ کے ہمراہ ایک مہم پر بھیجا اور مجھے ان کا امیر مقرر فرمایا، اس قافلے میں عمار بھی شامل تھے، ہمارا سامنا ایک ایسی قوم سے ہوا جن میں مسلمانوں کا ایک گھرانہ بھی تھا، تو عمار اور کچھ دیگر مسلمانوں نے ان کے بارے میں مجھ سے بات کی اور کہا کہ ان کا راستہ چھوڑ دو، میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ لیں اور ان کے بارے میں اپنی رائے قائم فرما دیں، اس بات پر عمار مجھ سے ناراض ہو گئے، جب میں واپس پہنچا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ مجھ سے احوال دریافت فرما رہے تھے اور میں عرض کر رہا تھا، اتنے میں عمار نے بھی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، عمار داخل ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ خالد نے کیا کیا؟ تو میں نے (طیش میں آ کر) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر آپ کی مجلس کا لحاظ نہ ہوتا تو یہ ابن سمیہ مجھے برا بھلا نہ کہتا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمار! تم باہر چلے جاؤ“، عمار روتے ہوئے باہر نکل گئے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد کے مقابلے میں میری مدد نہیں فرمائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے اس شخص کو جواب کیوں نہ دیا؟“ میں نے عرض کیا: مجھے انہیں جواب دینے سے صرف ان کی تحقیر نے روکا (یعنی میں نے انہیں اپنے برابر کا نہیں سمجھا)، تب رسول اللہ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا: ”بیشک جو عمار سے بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا، جو عمار کو برا کہے گا اللہ اسے برا کہے گا اور جو عمار کی تحقیر کرے گا اللہ اس کی تحقیر کرے گا“، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے نکلا اور مسلسل عمار سے معافی کی درخواست کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے میرے لیے مغفرت کی دعا کی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5779
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سلمة بن كُهيل
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سلمة بن كُهيل، وقد تابعه أخوه محمد، لكنه زاد في إسناده بين أبيه سلمة وبين عمران بن أبي الجعد رجلًا كنيته أبو يحيى، ولم نتبيّنه. وزاد ذكر عبد الرحمن بن يزيد بين عمران وبين الأشتر، ومحمد بن سلمة بن كهيل ضعيف كأخيه. أبو الجَوّاب: هو الأحوص بن جَوَّاب الضَّبِّي.» [ترقيم الرساله 5779] [ترقيم الشركة 5725]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف يحيى بن سلمة بن كُهيل، وقد تابعه أخوه محمد، لكنه زاد في إسناده بين أبيه سلمة وبين عمران بن أبي الجعد رجلًا كنيته أبو يحيى، ولم نتبيّنه. وزاد ذكر عبد الرحمن بن يزيد بين عمران وبين الأشتر، ومحمد بن سلمة بن كهيل ضعيف كأخيه. أبو الجَوّاب: هو الأحوص بن جَوَّاب الضَّبِّي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کا ضعیف ہونا ہے۔ اگرچہ ان کے بھائی محمد نے ان کی متابعت کی ہے، لیکن انہوں نے اپنی سند میں اپنے والد سلمہ اور عمران بن ابی الجعد کے درمیان ایک آدمی کا اضافہ کیا ہے جس کی کنیت "ابو یحییٰ" ہے اور ہم اس کی شناخت نہیں کر سکے۔ نیز انہوں نے عمران اور اشتر کے درمیان عبدالرحمن بن یزید کا بھی اضافہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ محمد بن سلمہ بن کہیل بھی اپنے بھائی کی طرح ضعیف ہیں۔
ناموں کی تحقیق: ابو الجوّاب سے مراد احوص بن جواب الضّبّی ہیں۔
وأخرجه أبو يعلى الموصلي كما في "جامع المسانيد والسنن" لابن كثير (2748) - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 43/ 400 - والطبراني في "الكبير" (3832) من طريق الأزرق بن علي، عن حسّان بن إبراهيم، عن محمد بن سلمة بن كهيل، عن أبيه، عن أبي يحيى، عن عمران بن أبي الجعد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن الأشتر، عن خالد بن الوليد. والأزرق ذكره ابن حبان في "ثقاته" وقال: يُغرِب.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابو یعلیٰ موصلی نے کی ہے (جیسا کہ ابن کثیر کی "جامع المسانيد والسنن" 2748 میں ہے) - اور انہی کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (43/ 400) میں - اور طبرانی نے "المعجم الكبير" (3832) میں ازرق بن علی کے طریق سے، حسان بن ابراہیم سے، وہ محمد بن سلمہ بن کہیل سے، وہ اپنے والد سے، وہ ابو یحییٰ سے، وہ عمران بن ابی الجعد سے، وہ عبدالرحمن بن یزید سے، وہ اشتر سے اور وہ خالد بن ولید سے روایت کرتے ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "ازرق" کو ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ وہ "غرائب" (انوکھی روایات) لاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5779 سے ماخوذ ہے۔