المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
دُورُوا مَعَ كِتَابِ اللَّهِ حَيْثُمَا دَارَ باب: قرآنِ مجید کے ساتھ رہو جدھر وہ رہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله (1) بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أُسامة، حدثنا مُسلم أبو (2) عبد الله الأعور، عن حَبّة العُرَني، قال: دخلْنا مع أبي مسعود الأنصاري على حُذيفة بن اليمان أسألُه عن الفِتَن، فقال: دُورُوا مع كتابِ الله حيثُ دار، وانظُروا الفئةَ التي فيها ابن سُميّة فاتَّبعُوها، فإنه يَدُور مع كتابِ الله حيثُ ما دار، قال: فقلنا له: ومَنِ ابن سُميّةَ؟ قال: عمارٌ؛ سمعتُ رسول الله ﷺ يقول له: "لن تَموتَ حتى تَقتُلَك الفئةُ الباغِيَة، تَشربُ شَرْبةً ضَيَاحٍ تكونُ (3) آخِرَ رِزْقِك من الدنيا" (4).
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5676 - صحيححبہ عرنی سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ ان سے فتنوں کے متعلق سوال کریں، تو انہوں نے فرمایا: ”تم اللہ کی کتاب کے ساتھ رہو جہاں بھی وہ تمہیں لے جائے، اور اس گروہ کو دیکھو جس میں ابن سمیہ (عمار) ہوں تو اس کی پیروی کرو، کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے ساتھ ہوتے ہیں جہاں بھی وہ ہو“، راوی کہتے ہیں: ہم نے ان سے پوچھا کہ ابن سمیہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عمار؛ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم ہرگز فوت نہیں ہو گے یہاں تک کہ تمہیں ایک باغی گروہ قتل کر دے گا، تم پانی ملا ہوا دودھ پیو گے جو دنیا میں تمہارا آخری رزق ہوگا“۔
یہ حدیث صحیح اور عالی ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "عبیداللہ" ہو گیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: بن، والجادّة ما أثبتناه كما في كتب التراجم، وجاء فيها أنَّ اسم أبيه كيسان.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ "بن" لکھا ہے، لیکن درست وہ ہے جو ہم نے ثابت (تحریر) کیا ہے جیسا کہ کتبِ تراجم (Biography Books) میں ہے۔ ان کتابوں میں ہے کہ ان کے والد کا نام "کیسان" ہے۔
(3) في نسخنا الخطية: تكن، والجادة ما أثبتناه
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "تکن" لکھا ہے، جبکہ درست اور معیاری وہ ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(4) إسناده ضعيف جدًّا كما تقدَّم التنبيه عليه عند رواية الحديث المتقدمة برقم (2684) من طريق إسرائيل بن يونس عن مسلم الأعور، والمرفوع منه صحيح من غير هذا الوجه كما تقدم في الأحاديث السابقة.
درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس پر تنبیہ پہلے گزر چکی ہے جب حدیث نمبر (2684) اسرائیل بن یونس کے طریق سے مسلم الاعور سے روایت کی گئی تھی۔ البتہ اس کا "مرفوع" حصہ اس طریق کے علاوہ دیگر طرق سے "صحیح" ثابت ہے، جیسا کہ گزشتہ احادیث میں گزر چکا ہے۔