حدیث نمبر: 5778
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا العَوّام بن حَوشَبٍ، حدثني سلَمة بن كُهَيل، عن علقمة، عن خالد بن الوليد، قال: كان بيني وبين عمّار بن ياسِر كلامٌ، فأغلظْتُ له، فانطلقَ عمار يَشكُو إلى النبيّ ﷺ، فجاء خالدٌ وهو يَشكُوه، فجعل يُغلِظُ له، ولا يَزيدُه إِلَّا غِلْظةً، والنبيُّ ﷺ ساكتٌ، فبكى عمار، وقال: يا رسول الله، ألا تَراهُ؟! قال: فرفع النبيُّ ﷺ رأسَه، وقال: "مَن عادى عمارًا عاداهُ اللهُ، ومن أبغضَ عمارًا أبغضَه اللهُ"، قال خالدٌ: فخرجتُ فما كان شيءٌ أحبَّ إليَّ مِن رضا عمارٍ، فلقِيتُه، فرَضِيَ (1). حديث العَوّام بن حّوشّب
هذا حديثٌ صحيحُ الإسناد على شرط الشيخين؛ لاتفاقِهما على العَوّام بن حَوشَب وعلقمة، على أنَّ شعبةَ أحفظُ منه؛ حيث قال: عن سَلَمة بن كُهيل، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن أبيه، عن الأشتر (2)، والإسنادانِ صحيحانِ.
حافظ طلحہ بابر

علقمہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میرے اور عمار بن یاسر کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی تو میں نے ان کے ساتھ سختی کی، چنانچہ عمار نبی کریم ﷺ کے پاس شکایت لے کر چلے گئے، اتنے میں خالد بھی آ گئے جبکہ عمار شکایت کر رہے تھے، تو وہ عمار کے ساتھ مزید سختی کرنے لگے اور ان کی سختی بڑھتی ہی گئی جبکہ نبی کریم ﷺ خاموش رہے، پھر عمار رو پڑے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ان کو (مجھ پر سختی کرتے ہوئے) دیکھ نہیں رہے؟ راوی کہتے ہیں: تب نبی کریم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”جو عمار سے دشمنی کرے گا اللہ اس سے دشمنی کرے گا، اور جو عمار سے بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا“، خالد فرماتے ہیں: پھر میں وہاں سے نکلا تو میرے نزدیک عمار کی رضا مندی سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہ تھی، چنانچہ میں ان سے ملا اور وہ (مجھ سے) راضی ہو گئے۔
یہ حدیث کی سند صحیح ہے اور شیخین کی شرط پر ہے، کیونکہ ان دونوں نے عوام بن حوشب اور علقمہ پر اتفاق کیا ہے، اگرچہ شعبہ ان سے بڑے حافظ ہیں جیسا کہ انہوں نے اس کی سند میں ”سلمہ بن کہیل عن محمد بن عبد الرحمن بن یزید عن ابیہ عن الاشتر“ کہا ہے، اور یہ دونوں سندیں صحیح ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5778
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكنه أُعِلَّ بمخالفة العَوّام لشعبة في إسناده كما ذهب إليه أبو حاتم وأبو زرعة الرازيّان فيما نقله عنهما ابن أبي حاتم في "العلل" (2588)، وأنَّ العَوّام أسقط من إسناده بعض من ذكرهم شعبة، وذَكَرَ علقمةَ - وهو ابن قَيْس النَّخَعي - بدل الأشتَر النَّخَعي، وشعبةُ يرويه عن سلمة ...» [ترقيم الرساله 5778] [ترقيم الشركة 5724]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات، لكنه أُعِلَّ بمخالفة العَوّام لشعبة في إسناده كما ذهب إليه أبو حاتم وأبو زرعة الرازيّان فيما نقله عنهما ابن أبي حاتم في "العلل" (2588)، وأنَّ العَوّام أسقط من إسناده بعض من ذكرهم شعبة، وذَكَرَ علقمةَ - وهو ابن قَيْس النَّخَعي - بدل الأشتَر النَّخَعي، وشعبةُ يرويه عن سلمة بن كهيل عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه عن الأشتر عن خالد، كما تقدَّم، وخالف أبا حاتم وأبا زرعة ابن حبّان (7081)، والمُصنِّفُ، فصححا رواية العَوّام بن حَوشَب هذه.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں ایک "علت" (فنی خامی) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وہ یہ کہ عوام بن حوشب نے سند بیان کرنے میں شعبہ کی مخالفت کی ہے۔ یہ رائے امام ابو حاتم اور ابو زرعہ رازی کی ہے جسے ابن ابی حاتم نے "العلل" (2588) میں نقل کیا ہے۔ تفصیل یہ کہ عوام نے اپنی سند سے بعض ان راویوں کو گرا دیا جن کا ذکر شعبہ نے کیا ہے، اور انہوں نے "الاشتر النخعی" کی جگہ "علقمہ" (ابن قیس النخعی) کا نام لیا ہے۔ جبکہ شعبہ اسے سلمہ بن کہیل سے، وہ محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے، وہ اپنے والد سے، وہ اشتر سے اور وہ خالد سے روایت کرتے ہیں، جیسا کہ گزر چکا۔ البتہ ابو حاتم اور ابو زرعہ کی اس رائے سے ابن حبان (7081) اور مصنف (تحقیق کرنے والے) نے اختلاف کیا ہے اور عوام بن حوشب کی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (16814)، والنسائي (8211)، وابن حبان (7081) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (28/ 16814)، نسائی (8211) اور ابن حبان (7081) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه أبو يعلى في "معجمه" (227)، والطبراني في "الكبير" (3835) من طريق هشيم، عن العوام بن حوشب، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ نے "معجم" (227) اور طبرانی نے "المعجم الكبير" (3835) میں ہشیم کے واسطے سے عوام بن حوشب سے روایت کیا ہے۔
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الأسود.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "الاسود" ہو گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5778 سے ماخوذ ہے۔