المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
حَدِيثُ مُنَازَعَةِ عَمَّارٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَقَضَاءُ النَّبِيِّ وَقَوْلُ النَّبِيِّ : " مَنْ يُبْغِضُ عَمَّارًا يُبْغِضُهُ اللَّهُ " باب: سیدنا عمار اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کا بیان
أخبرنا محمد بن صالح، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عُمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أبي، عن الحسن بن عُبيد الله، عن محمد بن شَدّاد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن الأشْتَر، قال: سمعت خالدَ بنَ الوليد يقول: بَعثَني رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة ومعي عمّارُ بن ياسر، فأصبْنا ناسًا منهم أهلُ بيتٍ قد ذَكَروا الإسلامَ، فقال عمار: إنَّ هؤلاء قد وَحَّدوا، فلم ألتفِتْ إلى قولِه، فأصابَهم ما أصابَ الناسَ، قال: فجعل عمارٌ يَتوعَّدُني؛ لو قد رأيتُ رسول الله ﷺ فأخبرتُه، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبرَه، فلما رآهُ لا يَنصُره ولّى وعَيْناهُ تَدمَعان قال: فدعاني، فقال: "يا خالدُ، لا تَسُبَّ عمارًا، فإنه من يَسُبُّ عمارًا، يسُبُّه اللهُ، ومن يُبغِضُ عمارًا يُبغِضُه اللهُ، ومن يُسَفِّه عمارًا يُسفِّهُهُ اللهُ"، قال خالد: استغفِرْ لي يا رسولَ الله، فواللهِ ما مَنَعني أن أُجيبَه إلَّا تَسفِيهي إياهُ، قال خالدٌ: وما مِن شيءٍ أخوفَ عندي من تَسفِيهي عمارَ بن ياسر يومئذٍ (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه مسعود بن سعد الجُعْفي ومحمد بن فُضَيل بن غَزْوانَ عن الحسن بن عُبيد الله النَّخَعي. أما حديث مسعود بن سعد:
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مہم پر روانہ فرمایا اور میرے ساتھ عمار بن یاسر بھی تھے، ہمارا سامنا کچھ ایسے لوگوں سے ہوا جن کے ایک گھرانے نے اسلام کا ذکر کیا، عمار نے کہا: یہ لوگ تو توحید کا اقرار کر چکے ہیں، مگر میں نے ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ دی، تو ان لوگوں کے ساتھ بھی وہی ہوا جو باقی لوگوں کے ساتھ ہوا، راوی کہتے ہیں: پھر عمار مجھے ڈرانے لگے کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا تو انہیں ضرور بتاؤں گا، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا، جب انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ ان کی (میری شکایت کے جواب میں) مدد نہیں فرما رہے تو وہ روتے ہوئے واپس مڑنے لگے، خالد کہتے ہیں: تب آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”اے خالد! عمار کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ جو شخص عمار کو برا کہتا ہے اللہ اسے برا کہتا ہے، جو عمار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے، اور جو عمار کو بے وقوف (حقیر) سمجھتا ہے اللہ اسے بے وقوف (حقیر) ٹھہراتا ہے“، خالد نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، اللہ کی قسم! مجھے ان کی بات کا جواب دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں انہیں ناسمجھ سمجھ رہا تھا، خالد فرماتے ہیں: میرے نزدیک اس دن عمار بن یاسر کو ناسمجھ کہنے سے بڑھ کر کوئی ڈرنے والی چیز نہیں تھی۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مسعود بن سعد جعفی اور محمد بن فضیل بن غزوان نے بھی اسے حسن بن عبید اللہ نخعی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ محمد بن شداد (جو النخعی ہیں) کی جہالت ہے۔ اور وہ دیکھیں جو پیچھے نمبر (5771) پر گزر چکا ہے۔