المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَهَادَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا رَبيعة بن كُلْثوم، حدثني أبي، قال: كنتُ بواسطِ القَصَب في مَنزِلِ عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر، فقال الآذِنُ: هذا أبو غاديةَ الجُهَني يَستأذِن، فقال عبدُ الأعلى: أدخِلُوه فأُدخِل وعليه مُقَطَّعاتٌ، فإذا رجلٌ طُوَالٌ ضَرْبٌ من الرِّجال، كأنه ليس من هذه الأُمّة، فلما قَعَد قال: كنا نَعُدُّ عمارَ بنَ ياسر من خِيَارِنا، قال: فواللهِ إني لَفِي مَسجدِ قُباءٍ فإذا هو يقولُ - وذكر كلمةً - لو وَجَدتُ عليه أعوانًا لَوطِئتُه حتى أقتُلَه، قال: فلما كان يومُ صِفِّينَ أقبلَ يمشي أولَ الكَتِيبة راجِلًا، حتى كان بين الصَّفَّين طُعِنَ رجُلٌ بالرُّمْح فصُرِع، فانكفأ المِغفَرُ عنه، فأَضرِبه فإذا هو رأسُ عمارِ بن ياسر. قال: يقولُ مَولًى لنا: لم أرَ رجُلًا أبْيَنَ ضَلالةً منه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5658 - سكت عنه الذهبي في التلخيصربیعہ بن کلثوم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں واسط القصب میں عبد الاعلی بن عبداللہ بن عامر کے گھر میں تھا کہ دربان نے بتایا: یہ ابو غادیہ جہنی ہیں جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، عبد الاعلی نے کہا: انہیں اندر لے آؤ، وہ داخل ہوئے تو انہوں نے چھوٹے کپڑے پہن رکھے تھے، وہ ایک گندمی رنگ کے دراز قد شخص تھے جو اس امت کے لوگوں جیسے نہیں لگتے تھے، جب وہ بیٹھ گئے تو کہنے لگے: ہم عمار بن یاسر کو اپنے بہترین لوگوں میں شمار کرتے تھے، پھر کہا: اللہ کی قسم! میں مسجدِ قبا میں تھا کہ اچانک انہوں نے ایک ایسی بات کہی کہ اگر مجھے ان کے خلاف کوئی مددگار مل جاتا تو میں انہیں کچل کر قتل کر دیتا، پھر جب جنگ صفین کا دن ہوا تو وہ (عمار) ایک پیادہ دستے کے آگے آگے چل رہے تھے یہاں تک کہ جب دونوں صفوں کے درمیان ایک شخص کو نیزہ مارا گیا اور وہ گر پڑا تو اس کے سر سے خود (ٹوپی) ہٹ گئی، میں نے دیکھا تو وہ عمار بن یاسر کا سر تھا، راوی کہتے ہیں کہ ہمارے ایک آزاد کردہ غلام نے کہا: میں نے ان (ابو غادیہ) سے بڑھ کر کھلی گمراہی والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ قوت ربیعہ بن کلثوم (جو ابن جبر البصری ہیں) کی وجہ سے ہے، وہ صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27/ 16698) نے عبداللہ بن عون کے طریق سے کلثوم بن جبر سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
وواسط القصَب: اسم كان يُطلق على واسط، لأنها كانت قصبًا قبل أن يبني الحجّاج بها بلدًا، فقيل لها واسط القصب.
نوٹ / توضیح: "واسط القصب" دراصل شہر واسط کا پرانا نام تھا، کیونکہ حجاج کے شہر بسانے سے پہلے وہاں سرکنڈے (قصب) ہوا کرتے تھے، اس لیے اسے "واسط القصب" کہا گیا۔
والمُقطَّعات: هي الثياب القِصار، لأنها قُطعت عن بلوغ التمام.
نوٹ / توضیح: "المُقطَّعات" سے مراد چھوٹے (مختصر) کپڑے ہیں، کیونکہ وہ پورا ہونے سے پہلے کاٹ دیے گئے تھے۔
والضَّرْبُ من الرجال: هو الخفيف اللحم المَمشُوقُ المُستدِقّ.
نوٹ / توضیح: "الضَّرْبُ من الرجال" سے مراد وہ شخص ہے جس کے جسم پر گوشت کم ہو، چھریرا بدن اور پتلا ہو۔