المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ شَهَادَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعْمر، عن ابن طاووس، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه أخبره، قال: لما قُتل عَمّار بن ياسر دَخَل عَمرُو بن حَزْم على عَمرو بن العاص، فقال: قُتِل عمارٌ، وقد سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "تَقتُلُه الفِئةُ الباغِيةُ"، فقام عَمرٌو فَزِعًا، حتى دخل على معاويةَ، فقال له معاويةُ: ما شأنُك؟ فقال: قُتل عمار بن ياسر، فقال: قُتل عمار، فما ذا؟ فقال عَمرو: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "تَقتُله الفِئةُ الباغيَةُ"، فقال له معاويةُ: أنحنُ قتَلْناهُ، إنما قتَلَه عليّ وأصحابُه، جاؤوا به حتى أَلقَوه بين رِماحِنا، أو قال: سُيوفنا (1). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5659 - على شرط البخاري ومسلمابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عمرو بن حزم، عمرو بن عاص کے پاس گئے اور کہا: عمار قتل کر دیے گئے ہیں جبکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”انہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا“، یہ سن کر عمرو بن عاص گھبرا کر اٹھے یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، معاویہ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: عمار بن یاسر قتل ہو گئے ہیں، معاویہ نے کہا: عمار قتل ہو گئے تو کیا ہوا؟ عمرو نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”انہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا“، اس پر معاویہ نے ان سے کہا: کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو علی اور ان کے ساتھیوں نے قتل کیا ہے جو انہیں (میدانِ جنگ میں) لے کر آئے یہاں تک کہ انہیں ہمارے نیزوں (یا فرمایا: ہماری تلواروں) کے درمیان پھینک دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابن طاؤس سے مراد عبداللہ (بن طاؤس) ہیں۔
حوالہ / مصدر: اور یہ اسی کا تکرار ہے جو پہلے نمبر (2695) پر گزر چکا ہے۔