المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ خَبَّابُ أَوَّلَ مَنْ قُبِرَ بِالْكُوفَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ باب: سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ صحابہ میں سے کوفہ میں سب سے پہلے دفن ہونے والے تھے
حدیث نمبر: 5739
أخبرنا أبو محمد الحسن بن محمد الأزهري، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن عبد الله المَدِينيّ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، عن محمد بن عبد الله ابن أخي الزُّهري، عن عمِّه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن الحارث بن نَوفَل، قال: مات خَبّاب بن الأرتّ سنةَ سبع وثلاثين، وهو أولُ مَن قَبَره عليٌّ بالكوفة من أصحابِ رسول الله ﷺ، وأول مَن صُلِّي عليه بعد مَرجِع أميرِ المؤمنين من صِفِّينَ (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5639 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
عبید اللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی وفات سن 37 ہجری میں ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے پہلے فرد تھے جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی سرزمین پر دفن کیا، اور یہ وہ پہلے شخص تھے جن پر امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی کے بعد نماز جنازہ ادا فرمائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) رجاله لا بأس بهم. محمد بن عبد الله ابن أخي الزهري: هو ابن مسلم بن عُبيد الله. وانظر "طبقات ابن سعد" 3/ 153.
درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔
فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن عبداللہ (جو زہری کے بھتیجے ہیں) سے مراد محمد بن عبداللہ بن مسلم بن عبیداللہ ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 153)۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔
فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن عبداللہ (جو زہری کے بھتیجے ہیں) سے مراد محمد بن عبداللہ بن مسلم بن عبیداللہ ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: "طبقات ابن سعد" (3/ 153)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5739 سے ماخوذ ہے۔